افغانستان کے کابل دریا پر ڈیم منصوبے پاکستان کا آبی بحران گہرا ہونیکا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان کے کابل دریا پر ڈیم منصوبے، پاکستان کا آبی بحران گہرا ہونیکا خدشہ، ممکنہ افغان آبی ذخیرہ گاہیں پاکستان کیلئے سالانہ 3ایم اے ایف پانی کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ طالبان بڑے ڈیم بنانیکی صلاحیت سے فی الحال محروم، بھارتی مالی امداد و سیاسی مقاصد کے خدشات، ماہرین اور سرکاری عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے کابل دریا کے نظام پر ڈیم یا بیراج کی تعمیر پاکستان کے لیے اوائلِ خریف (اپریل تا جون) کے دوران پانی کی دستیابی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ تخمینوں کے مطابق افغانستان کنڑ اور کابل دریاؤں پر 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کابل دریا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :