ایشیائی ترقیاتی بینک نے گلیشیئرز ٹو فارمز منصوبے کے تحت 25 کروڑ ڈالر کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک کے گرین کلائمیٹ فنڈ نے ایک بڑے ماحولیاتی منصوبے ’’گلیشیئرز ٹو فارمز‘‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
یہ پروگرام پاکستان سمیت 9 ایشیائی ممالک میں شروع کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد گلیشیئرز پر انحصار کرنے والے خطوں میں پانی کے وسائل اور زرعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ منصوبہ اگلے دس برسوں میں 3.
اس پروگرام سے خطے کے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جن میں زیادہ تر کسان اور پہاڑی علاقوں کی بستیاں شامل ہیں جو گلیشیئر پگھلنے کے اثرات سے متاثر ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے خشک سالی اور اچانک آنے والے سیلابوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبے میں جدید وارننگ سسٹم، تحقیقاتی سہولیات، اور ڈیٹا مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گلیشیئر سے نکلنے والے چار بڑے دریائی حوض ، نارین، پیانج، کُورا اور سوات اس منصوبے کا حصہ ہوں گے، تاکہ ان خطوں کے پانی کے بہاؤ اور ذخائر کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔
اس پروگرام میں خواتین کی زیرِ قیادت زرعی کاروباروں کی مالی معاونت کے لیے مقامی بینکوں کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے، تاکہ موسمیاتی دباؤ کے باوجود دیہی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ ’’گلیشیئرز ٹو فارمز‘‘ منصوبہ صرف زرعی ترقی نہیں بلکہ ایک پائیدار ماحولیاتی حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے کو منتشر کوششوں سے نکال کر مربوط اور لچکدار نظام کی طرف لے جائے گا۔
گرین کلائمیٹ فنڈ کے نمائندے تھامس ایرکسن نے کہا کہ یہ پروگرام ایشیا میں پانی اور خوراک کے نظام میں ایک معیار قائم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول اور مضبوط معیشت کی بنیاد رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔