data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک کے گرین کلائمیٹ فنڈ نے ایک بڑے ماحولیاتی منصوبے ’’گلیشیئرز ٹو فارمز‘‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

یہ پروگرام پاکستان سمیت 9 ایشیائی ممالک میں شروع کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد گلیشیئرز پر انحصار کرنے والے خطوں میں پانی کے وسائل اور زرعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ منصوبہ اگلے دس برسوں میں 3.

25 ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کا حصہ ہے، جس کے تحت مؤثر آبپاشی، پانی کے ذخائر کی مضبوطی اور واٹر شیڈ مینجمنٹ کے نظام کو فروغ دیا جائے گا۔

اس پروگرام سے خطے کے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جن میں زیادہ تر کسان اور پہاڑی علاقوں کی بستیاں شامل ہیں جو گلیشیئر پگھلنے کے اثرات سے متاثر ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے خشک سالی اور اچانک آنے والے سیلابوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبے میں جدید وارننگ سسٹم، تحقیقاتی سہولیات، اور ڈیٹا مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گلیشیئر سے نکلنے والے چار بڑے دریائی حوض ، نارین، پیانج، کُورا اور سوات  اس منصوبے کا حصہ ہوں گے، تاکہ ان خطوں کے پانی کے بہاؤ اور ذخائر کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔

اس پروگرام میں خواتین کی زیرِ قیادت زرعی کاروباروں کی مالی معاونت کے لیے مقامی بینکوں کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے، تاکہ موسمیاتی دباؤ کے باوجود دیہی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ ’’گلیشیئرز ٹو فارمز‘‘ منصوبہ صرف زرعی ترقی نہیں بلکہ ایک پائیدار ماحولیاتی حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے کو منتشر کوششوں سے نکال کر مربوط اور لچکدار نظام کی طرف لے جائے گا۔

گرین کلائمیٹ فنڈ کے نمائندے تھامس ایرکسن نے کہا کہ یہ پروگرام ایشیا میں پانی اور خوراک کے نظام میں ایک معیار قائم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ  یہ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول اور مضبوط معیشت کی بنیاد رکھے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف