اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) عالمی بنک نے پاکستان کیلئے 40 کروڑ جبکہ ایشیائی ترقیاتی بنک نے 54 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔ عالمی بنک کے اعلامیہ کے مطابق رقم صوبہ پنجاب میں شہروں میں صفائی اور پانی کی سہولیات کیلئے خرچ ہوگی۔ منصوبے سے پنجاب کے 16 شہروں میں محفوظ پانی و صفائی کی سہولیات میسر آئیں گی۔ بارشوں کے نکاس، پانی، سیوریج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ سسٹمز اپ گریڈ کئے جائیں گے۔ پروگرام سے 45 لاکھ افراد کو پانی سے صفائی جیسی بہتر سہولیات ملیں گی۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز میں بھی بہتری ہوگی۔ عالمی بنک کے مطابق منصوبہ صحت اخراجات میں کمی اور پانی سے پیدا بیماریوں میں کمی لائے گا۔ مقامی حکومتوں کی استعداد کار اور ریونیو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ منصوبہ شہروں کی پائیدار ترقی اور ماحول دوستی کے اہداف میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ منصوبے میں خواتین کیلئے نئی بھرتیاں اور فیصلہ سازی میں نمائندگی کو ترجیح دی جائے گی۔ خواتین کیلئے سکل ڈویلپمنٹ اور جینڈر کمپلینٹ ڈیسک قائم کئے جائیں گے۔ منصوبہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام اور ستھرا پنجاب پروگرام کی معاونت کرے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں سرکاری اداروں کی اصلاحات اور صوبہ سندھ کے ساحلی اضلاع میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مجموعی طور پر 54 کروڑ ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں 400 ملین ڈالر کا نتائج کی بنیاد پر دیا جانے والا قرض ایس او ای ٹرانسفارمیشن پروگرام کے لیے ہے، جبکہ 140 ملین ڈالر کا رعایتی قرض سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اے ڈی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ایس او ای اصلاحاتی پروگرام پاکستان کے سرکاری اداروں میں کارپوریٹ گورننس اور کارکردگی سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ایما فان کے مطابق یہ پروگرام پاکستان کے تجارتی سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ملکی معاشی استحکام میں مدد دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی جیسے بڑے اور پیچیدہ ادارے کی تنظیمِ نو اور تجارتی خطوط پر استوار کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ پروگرام سرکاری شعبے میں انتظامی اصلاحات کے لیے اے ڈی بی کا پہلا مکمل طور پر نتائج سے منسلک قرض ہے۔ منصوبہ گرین ہاؤس گیسوں میں کمی، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جو 2030 تک فوڈ سسٹمز کی تبدیلی کے لیے اے ڈی بی کے 40 بلین ڈالر کے ہدف کا حصہ ہے۔ دریں اثناء حکومتِ پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 257 ملین ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط ہوگئے۔ جمعہ کو وزارت اقتصادی امور کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق ریسپانسیو، ریڈی اینڈ ریزیلینٹ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میتھمیٹکس (سٹیم) سیکنڈری ایجوکیشن پروگرام  پنجاب، جس کی مالیت 107 ملین ڈالر ہے (جس میں 7 ملین ڈالر اے ڈی ایف گرانٹ شامل ہے)۔ پنجاب نرسنگ اور ہیلتھ ورکس فورس ریفارم پروگرام، جس کی مالیت 150 ملین ڈالر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عالمی بنک ملین ڈالر کے مطابق اے ڈی بی کے لیے

پڑھیں:

مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے

کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے مبینہ طور پر گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران تقریباً 12 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے) مالیت کا سونا فروخت کئے جانے کی خبروں پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کے لئے ملک کے سونے کے ذخائر فروخت کر رہی ہے۔ کانگریس صدر نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ جاری کر کہا کہ مودی حکومت سے روپیہ سنبھالا نہیں جا رہا ہے اور صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی بھی وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت 100 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی خدشے کے باعث حکومت اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مودی کو اپنی شبیہ کی فکر ستا رہی ہے، اسی لئے آر بی آئی سے کہہ کر ملک کا سونا فروخت کروایا جا رہا ہے تاکہ روپیہ 100 روپے فی ڈالر کی حد عبور نہ کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 2 ہفتوں کے اندر آر بی آئی نے تقریباً 12 بلین ڈالر مالیت کا سونا فروخت کر دیا ہے، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے کے برابر بنتا ہے۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعظم کی "فرضی شبیہ" کو بچانے کے لئے کئے جا رہے ہیں، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے کیونکہ ملک کی عوام حقیقت سے واقف ہو چکی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی تنقید کو مزید تیز کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا اور روزگار کے مواقع میں کمی ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسائل محض شروعات ہیں اور آنے والے دنوں میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ کھڑگے نے اپنے بیان کے اختتام پر مودی حکومت پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ مودی ہے تو ملک برباد ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری