وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات ناکام ہوگئے۔ افغان وفد نے بنیادی نکتہ سے ہٹ کر بحث کو موڑنے کی کوششیں کیں جس کی وجہ سے مذاکرات متوقع نتیجہ تک نہیں پہنچے۔

وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ پاکستان نے استنبول میں افغانستان کے نمائندہ وفد کے ساتھ 4 روزہ مذاکرات کے بعد امیدوں اور احتیاطی حکمت عملی دونوں کے ساتھ اپنی پالیسی کی تصویر واضح کی ہے۔

مزید پڑھیں: جنگ میں 6 جہاز گرنے کے بعد بھارت کھیل کے میدان میں اپنی خفت مٹا رہا ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والی یہ بات چیت امن اور استحکام کے قیام کے لیے ایک نئی کوشش تھی جس میں بنیادی ایجنڈا افغان سرزمین کو دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جانا تھا۔

مذاکرات کے دوران پاکستان نے قابلِ عمل اور ٹھوس شواہد میز پر رکھے جو افغان فریق اور میزبان ممالک نے تسلیم کیے۔ تاہم افغان وفد کی طرف سے ان شواہد کے پیشِ نظر کوئی حتمی یقین دہانی یا عملی عزم موصول نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ بات چیت نے فوری طور پر مسئلے کا حل فراہم نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین سے پاک چین تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ گئے، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

افغان فریق نے بنیادی نکتہ سے ہٹ کر بحث کو موڑنے کی کوششیں کیں جس کی وجہ سے مذاکرات متوقع نتیجہ تک نہیں پہنچے۔ پاکستان نے مذاکرات کے دوران قطر اور ترکی کی ثالثی اور کوششوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور ان ممالک کی بین الاقوامی ثالثی کو عملِ صلح کے لیے مثبت قرار دیا۔

حکومتِ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کا مقصد افغان عوام کی بہبود اور دونوں ملکوں کی سلامتی ہے، اور وہ خطے میں دیرپا امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ اسی کے ساتھ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ وطنِ عزیز کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے ملک میں نئے ڈیم بنانے کی حکمت عملی طے کرلی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

اگرچہ سفارتی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں، پاکستان نے یہ بھی اعلان کیا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے عوام کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ کارروائیاں اٹھانے کا پابند ہے تاکہ دہشتگردوں، ان کے ٹھکانوں اور حامیوں کو کمزور کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استنبول مذاکرات افغان طالبان افغانستان پاکستان ترکیہ قطر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استنبول مذاکرات افغان طالبان افغانستان پاکستان ترکیہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ وزیر اطلاعات عطا عطا اللہ تارڑ پاکستان نے کے لیے

پڑھیں:

طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔

Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN

— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026

زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے

ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ