آزاد کشمیر: پی پی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مسلسل تبدیلیاں، چوتھی بار شیڈول بدل گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا مقام اور وقت چوتھی بار تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے پیپلزپارٹی پارلیمانی گروپ کا اجلاس آج شام زرداری ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا ہے، جس میں بلاول بھٹو اور فریال تالپور بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے ارکان اسمبلی کو شرکت کی ہدایت کی گئی ہے اور نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے اور نئی حکومت بنانے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ وزارت عظمیٰ کے لیے مطلوبہ ارکان اسمبلی کی تعداد پوری کرنے کے لیے فریال تالپور کی اہم ملاقاتیں جاری ہیں، اور اگر 27 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی تو آج نئے وزیر اعظم کا نامزد ہونا ممکن ہے۔
اس حوالے سے صدر پیپلزپارٹی چوہدری یاسین، لطیف اکبر اور سردار یعقوب کو وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار کے طور پر زیر غور رکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملک بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کرنے کا نیا شیڈول جاری
وفاقی حکومت نے ملک میں ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت کاروباری و تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی منظوری سے یہ فیصلہ موسمِ گرما، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور توانائی کے بہتر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر میں تمام دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، جنرل اسٹورز اور کریانہ کی دکانیں رات 9 بجے بند ہوں گی۔ اسی طرح شادی ہالز اور ایونٹس مارکیز کے لیے بندش کا وقت رات 10 بجے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔ کھانے پینے کے مراکز سے ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ایندھن کا بحران: آپ فیول کی بچت کیسے کر سکتے ہیں؟
دوسری جانب ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے، جن میں میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز، اسپتال، لیبارٹریز، بیکریاں، تندور، ڈیری شاپس، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، جم، اسپورٹس مراکز اور آئی ٹی کمپنیوں سمیت کال سینٹرز شامل ہیں۔
حکومت نے تمام صوبائی و علاقائی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے اوقاتِ کار پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایندھن بچت کاروباری اوقات کفایت شعاری مارکیٹیں