مودی سرکار بے نقاب، انڈیگو ایئرلائن بحران نے بھارتی فضائی نظام ہلا کر رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
بھارت کی معروف ایئرلائن انڈیگو شدید انتظامی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جس کے بعد مودی حکومت کی پالیسیوں پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی ہے۔
پروازوں میں تاخیر، منسوخیاں اور ہزاروں مسافروں کی مشکلات نے ایئرلائن کے نظام اور حکومتی نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ انڈیگو کا یہ بحران حکومت کے اجارہ داری ماڈل کی ناکامی کا نتیجہ ہے، جس کا بوجھ ہمیشہ عام شہریوں پر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پروازوں کی بندش، تاخیر اور مسافروں کی بے بسی اس فضائی صنعت میں قائم چند بڑے اداروں کی بالادستی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے منصفانہ مقابلے کے نظام پر زور دیا تاکہ مسابقت میں شفافیت لائی جا سکے۔
کانگریس رہنما پون کھیرا نے دعویٰ کیا کہ انڈیگو نے 50 کروڑ روپے کے انتخابی بانڈز بی جے پی کو دیے، جس کے بعد حکومت نے ایئرلائن کو طاقت فراہم کی جبکہ عوام کو لائنوں میں خوار ہونا پڑا۔
کانگریس رہنما ساشیکنتھ سینتھیل نے کہا کہ یہ بحران قدرتی نہیں بلکہ حکومت کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جو مخصوص کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت کی اجارہ داری کو فروغ دینے کی پالیسی بھارت کے ہر شعبے میں واضح نظر آتی ہے۔
کانگریس نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں بار بار بڑے اور اسٹریٹجک اثاثے ایک ہی کارپوریٹ گروپ کے ہاتھ میں دیے جاتے ہیں، اور کیوں حکومتی پالیسیاں عوام کے بجائے مخصوص حلقوں کے مفاد میں جاتی ہیں۔
اپوزیشن نے کہا کہ حکومت کی غلط ترجیحات نے بھارتی عوام کو شدید مسائل کا شکار بنا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حکومت کی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔