کراچی:

سندھ حکومت نے کراچی میں یلو لائن بی آر ٹی کے اہم حصے تاج حیدر پل کو عوام کے لیے کھولنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ گلشن معمار تا ٹاور ای وی بسز کا نیا روٹ شروع کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کنول نظام بھٹو اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے جاری اور آئندہ منصوبوں کا تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صوبائی حکومت نے کراچی کے بعد حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ میں خواتین اور طالبات کے لیے اسکوٹی ٹریننگ پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ سندھ کے مزید تین اضلاع میں پیپلز بس سروس کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

سینیئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر میں خواتین اور طالبات کے لیے اسکوٹیز چلانے کی تربیت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خواتین اور طالبات کے لیے اسکوٹیز چلانے کی تربیت نجی کمپنی کے اشتراک سے دی جائے گی، یہ تربیت صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ خواتین کی خود مختاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ٹریننگ مکمل کرنے والی خواتین کو مفت ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جائیں گے تاکہ انہیں کسی مالی بوجھ کا سامنا نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ یلو لائن بی آر ٹی کا اہم سیکشن تاج حیدر پل مکمل ہو چکا ہے اور جلد ہی عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ گلشن معمار سے ٹاور تک 15 ای وی بسوں پر مشتمل نیا روٹ شروع کیا جا رہا ہے، جو شہریوں کو جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرے گا۔

شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ خیرپور، شکارپور اور نوشہروفیروز میں بھی پیپلز بس سروس کے تحت 20 نئی بسیں چلائی جائیں گی تاکہ سندھ کے دیگر شہروں کو بھی معیاری سفری سہولیات میسر آئیں، ڈبل ڈیکر اور ای وی بسوں کی نئی کھیپ جلد کراچی پہنچنے والی ہے۔

سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ دسمبر میں ای وی ٹیکسی سروس کا آغاز کیا جائے گا، ابتدائی مرحلے میں 30 پنک ای وی ٹیکسیوں کے لیے خواتین ڈرائیورز کی تربیت کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی