تحریک انصاف کا ’’ پی پی بھگائو، سندھ بچائو تحریک‘‘ شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-08-31
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیاہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے جلد ہی ’’پی پی بھگائو،سندھ بچائو تحریک‘‘ شروع کی جائے گی، ماضی یا حال میں جو بھی غیرقانونی یا ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے، اس کا مرکز پی پی سندھ ہائوس ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں ڈینگی وبائی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری اور نجی دونوں اسپتال بھر چکے ہیں۔ سندھ حکومت اور صحت محکمہ ڈینگی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حلیم عادل نے کہا کہ حیدرآباد میں حال ہی میں 18ڈینگی کے مریض فوت ہوئے اور ہزاروں افراد اس مرض میں مبتلا ہیں اور جانیں بچانے میں صحت محکمہ بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی کے حکمرانوں کی کرپشن نے صحت سمیت سرکاری اداروں کو تباہ کر دیا ہے جو لوگ سندھ میں صحت کی سہولیات کے دعوے کرتے ہیں، ان کے اپنے صوبے کے لوگ اپنے معصوم بچوں کا علاج کہاں کراتے ہیں، یہ سوچنے والی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگ بچوں کا علاج خیبرپختونخوا (کے پی کے)میں کراتے ہیں، یہ عمل درست ہو سکتا ہے مگر اس سے سندھ حکومت کی بدحالی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی سرکاری اسپتالوں میں ادویات ،مناسب ڈاکٹر زاور نہ ہی عملہ ہے ، جس کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں اور مجبوراً نجی اسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں۔کے پی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفے پر بات کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم نے اپنے وزیر اعلی یا ہماری صوبائی حکومت کے استعفے کو پی پی کے نامزد گورنر کے ذریعے قبول کرنے سے پہلے انکار کیا، مگر پی پی کے گورنر پر دبائو پڑا اور آخرکار استعفیٰ قبول کر لیا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی یا حال میں جو بھی غیرقانونی یا ہارس ٹریڈنگ ہوئی، اس کا مرکز پی پی سندھ ہائوس ہے۔ لہذا میں اپنے پی پی کے حامیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ غیرجمہوری سرگرمیاں کرنا چاہتے ہیں تو اپنے دوسرے گھروں/دفاتر میں کریںسندھ ہائوس کی حرمت اور وقار کوپامال نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے پی پی کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔