ویب ڈیسک:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور کے علاقے فہد ٹاؤن میں نادرا سنٹر اور ڈیرہ گجراں شالیمار میں ریجنل پاسپورٹ آفس کا اچانک دورہ کیا۔

 اس دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شناختی کارڈ، دیگر دستاویزات اور پاسپورٹ کے اجرا کے عمل کا جائزہ لیا اور شہریوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے۔

وزیر داخلہ نے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو شہریوں کی شکایات کے فوری حل کے احکامات جاری کیے، دورانِ دورہ ایک بزرگ خاتون کی وہیل چیئر پر موجودگی کے پیش نظر محسن نقوی نے ان کی دستاویزات کو فوری پراسیس کرنے کی خصوصی ہدایت دی۔

 آئی سی سی سہ ماہی اجلاس کا آغاز آج سے دبئی میں ہو گا

محسن نقوی نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور انہیں مکمل سہولت فراہم کی جائے۔

شہریوں نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ پاسپورٹ کے اجرا میں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا اور عملے کا رویہ بھی بہتر ہے جو مناسب رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

محسن نقوی نے متعلقہ ذمہ داران کو ہدایت کی کہ نادرا سنٹر اور پاسپورٹ آفس میں آنے والے ہر شہری کا کام طے شدہ وقت میں مکمل کیا جائے جبکہ شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ کی ڈلیوری مقررہ مدت کے اندر یقینی بنائی جائے۔

سال 2025 کا روشن ترین سپر مون کل رات آسمان پر نمودار ہوگا 

وفاقی وزیر داخلہ نے اس موقع پر مزید کہا ہے کہ شہریوں کو اپنی شناختی دستاویزات کے حصول میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: محسن نقوی نے وزیر داخلہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار