بھارت: برازیلی خاتون کا سیما، سویٹی، سرسوتی، رشمی اور ولما کے نام سے 22 مرتبہ ووٹ ڈالنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ہریانہ میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے ثبوت کے طور پر ایک برازیلی ماڈل کی تصویر پیش کی۔
راہول گاندھی نے ماڈل کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ مختلف ناموں سے ہریانہ میں 22 مرتبہ ووٹ ڈال چکی ہے۔
کانگریسی رہنما نے بتایا کہ اس ماڈل کی تصویر ہریانہ کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر مختلف ناموں سیما، سویٹی، سرسوتی، رشمی اور ولما کے ساتھ ووٹر فہرستوں میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک غلطی نہیں بلکہ ’مرکزی سطح پر منظم آپریشن‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد 2024 کے ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج میں ہیرا پھیری کرنا تھا۔
راہول گاندھی کا کہنا تھا، یہ خاتون کون ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ لیکن وہ ہریانہ میں 22 بار ووٹ ڈالتی ہے، 10 مختلف بوتھوں پر، مختلف ناموں سے۔ اور پتہ چلا کہ وہ دراصل ایک برازیلی ماڈل ہے۔
راہول گاندھی نے اس موقع پر کہا کہ اگر ایسی دھاندلیاں نہ ہوتیں تو کانگریس ہریانہ کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کرتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن برازیل راہول گاندھی ہریانا ہریانہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن برازیل راہول گاندھی ہریانا ہریانہ راہول گاندھی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔