آغاخان میوزک ایوارڈ جیتنے والے امیدواروں کے ناموں کا اعلان، پاکستانی قوال استاد نصیر سامی بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
آغاخان میوزک ایوارڈ نے سال 2025-2023 کے لیے کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جس میں ایک پاکستانی فنکار بھی شامل ہے۔
آغاخان میوزک ایوارڈ کی جانب سے اعلان کردہ 11 حتمی امیدواروں کا فیصلہ جیوری کمیٹی نے کیا، ان امیدواروں میں دنیا بھر خصوصاً مسلم ممالک سے تعلق رکھنے فنکار شامل ہیں جن کا انتخاب دنیا بھر کے 400 نامزد امیداروں میں سے کیا گیا۔
اس ایوارڈ کے لیے منتخب امیدواروں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے قوال استاد نصیر الدین سامی بھی شامل ہیں جن کا تعلق صوفی شاعر امیر خسرو سے منسوب ہندوستان کے کلاسیکی ‘دلی گھرانے’ سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا اعزاز: ’ویژن پاکستان‘ نے آغا خان آرکیٹیکچر ایوارڈ 2025 جیت لیا
استاد نصیر کو انڈیا کے وارثی برادران کے ساتھ مشترکہ طور پر ‘اسپیشل پیٹرن ایوارڈ’ سے نوازا جائے گا۔
اس کے علاوہ اس سال ایوارڈ جیتنے والوں میں صحبا امینیکیا (ایران)، مریم بگایوکو (مالی)، سینی کامارا (سینیگال)، کمیلیا جبران (فلسطین)، فرح قدور (لبنان)، کیریاکوس کالایدزیدیس (یونان)، حمید القصری (مراکش)، قلالی فوک بینڈ (بحرین) اور دریا ترکاں (ترکیہ) شامل ہیں۔
فائنل کے لیے نامزد 22 امیدواروں میں استاد نصیر الدین سامی کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے جُمن لطیف (سندھ) اور استاد نور بخش (بلوچستان) بھی شامل تھے۔
استاد نصیر الدین سامی کون ہیں؟استاد نصیر الدین سامی ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی کی قدیم راگوں کی ایک قسم ‘خیال’ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اپنے 4 بیٹوں کے ہمراہ امیر خسرو کی موسیقی کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
معروف برطانوی میگزین ‘دی کوئٹس’ کے مطابق استاد نصیر الدین سامی خیال گائیکی کے تمام 49 سُر گانے والے واحد زندہ فنکار ہیں جو انہوں نے اپنے چچا سے 11 سال کی عمر میں سیکھے تھے۔
ایوارڈ کی ویب سائٹ کے مطابق استاد نصیر گزشتہ 6 دہائیوں سے کلاسیکی موسیقی سے وابستہ ہیں اور پاکستان اور یورپ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی فلم ’موکلانی‘ نے جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈ جیت لیا
ایوارڈ کی ماسٹر جیوری کمیٹی نے ’امیر خسرو کی روحانی اور موسیقی وراثت کو بھرپور جذبے کے ساتھ محفوظ رکھنے اور اعلیٰ ترین سطح پر اسے مختلف نسلوں تک منتقل کرنے کے اعتراف میں’ انہیں اس ایوارڈ کا حقدار قرار دیا ہے۔
استاد نصیر نے 2017 میں موسیقی میں گریمی ایوارڈ جیتنے والے ممتاز امریکی پروڈیوسر ایان برینان کے ساتھ مل کر ایک البم ریکارڈ کیا جس نے انہیں بین الاقوامی سامعین میں متعارف کیا۔
آغاخان میوزک ایوارڈآغاخان میوزک ایوارڈ کا شمار موسیقی کے اعلیٰ بین الاقوامی انعامات میں ہوتا ہے، ایوارڈ جیتنے والے فنکاروں کو مشترکہ طور پر 5 لاکھ امریکی ڈالرز (تقریباً 14 کروڑ پاکستانی روپے) کی انعامی رقم اور پیشہ ورانہ ترقی کے مختلف مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
آغاخان میوزک ایوارڈ کا اجرا 2018 میں پرنس کریم آغاخان اور اُن کے بھائی پرنس امین آغاخان نے کیا تھا جس کا مقصد مختلف ثقافتوں، خصوصاً مسلم تہذیب سے اثرانداز ہونے والے موسیقی کے ورثے کی قدردانی اور حوصلہ افزائی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور کے نوجوانوں میں آرٹ اور موسیقی کا شعور بیدار کرتا ادارہ
یہ ایوارڈ موسیقی کے ذریعے ثقافتی ورثے کے تحفظ، سماجی ہم آہنگی کے فروغ اور روحانی اقدار کی ترویج کرنے والے انفرادی موسیقاروں اور موسیقی کے بینڈ اور اداروں کو دیا جاتا ہے۔
2022 میں پاکستان کی فوک گلوکارہ زار سنگا (خیبر پختونخوا) اور صوفی گائیک سائیں ظہور (پنجاب) یہ ایوارڈ جیتنے والے فنکاروں میں شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Aga Khan Music Award 2025 Ustad Naseeruddin Saami استاد نصیر سامی امیر خسرو راگ خیال قوالی موسیقی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استاد نصیر سامی راگ خیال قوالی استاد نصیر الدین سامی آغاخان میوزک ایوارڈ موسیقی کے کے لیے
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔