’’میرے ہی شاگرد نے شادی کی پیشکش کی تھی‘‘؛ رومیسہ خان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اداکارہ اور سوشل میڈیا اسٹار رومیسہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں انہیں اپنے ایک سابق شاگرد کی جانب سے شادی کی پیشکش موصول ہوئی تھی، جس پر وہ خود بھی حیران رہ گئیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رومیسہ خان نے بتایا کہ اداکاری کے میدان میں آنے سے قبل وہ طلبا کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں تاکہ نیا آئی فون خرید سکیں۔ اداکارہ نے بتایا کہ اُس وقت ان کی عمر صرف 17 سال تھی اور وہ آٹھویں جماعت کے لڑکوں کو پڑھاتی تھیں۔
رومیسہ خان نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انہی طلبا میں سے ایک نے انہیں پیغام بھیجا اور کہا کہ وہ ان سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اس کےلیے اپنی والدہ کو رشتے کے لیے گھر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اداکارہ کے مطابق یہ پیغام پڑھ کر وہ مسکرا دیں کیونکہ اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ اپنے شاگردوں سے عمر میں زیادہ بڑی نہیں تھیں۔ اسی لیے انہوں نے اس پیشکش کو ہنسی مذاق میں ٹال دیا۔
واضح رہے کہ رومیسہ خان نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ٹک ٹاک سے کیا تھا، جہاں ان کی مقبولیت نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ بعدازاں انہوں نے ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا اور مختلف ڈراموں میں اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔