Jasarat News:
2026-07-24@06:51:54 GMT

کراچی: ڈمپر مافیا اور ریاستی غفلت کا شکار شہر

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

کراچی… پاکستان کا معاشی دل، لاکھوں خوابوں اور امیدوں کا مرکز، مگر آج یہ شہر ڈمپر مافیا اور ریاستی غفلت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ کبھی یہ ملک کی معیشت کا انجن تھا، مگر اب اس کی سڑکیں موت کے سوداگر ڈمپروں، ٹریلرز، ٹرکوں اور پانی کے ٹینکروں کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔ یہاں زندگی کا پہیہ چلنے کے بجائے کچلا جا رہا ہے، اور خون بہنا معمول بن گیا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر بے قابو ڈمپر اس طرح دوڑتے ہیں جیسے ان پر کوئی قانون لاگو ہی نہیں ہوتا۔ تیز رفتاری، بے ہنگم ڈرائیونگ، اور بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے سڑکوں پر موجودگی، ہر شہری کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ اکثر یہ گاڑیاں کم عمر یا نشے میں دھت ڈرائیور چلاتے ہیں، جن کے پاس نہ تربیت ہوتی ہے، نہ احساسِ ذمے داری۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے، ڈرائیور فرار، مالک بااثر، اور پولیس خاموش۔

2025 کے پہلے سات مہینوں میں کراچی میں ٹریفک حادثات میں کم از کم 538 شہری جاں بحق ہوئے۔ ان میں سے 222 ہلاکتیں بھاری گاڑیوں سے وابستہ ہیں، اور 274 اموات موٹر سائیکل سواروں کی ہیں۔ یعنی نصف سے زیادہ قتل کی ذمے دار یہی مشینی جن ہیں۔ راشد منہاس روڈ پر ہونے والا ایک واقعہ اس سانحے کی علامت ہے۔ ایک تیز رفتار ڈمپر نے 22 سالہ مہ نور اور 14 سالہ علی رضا کو کچل ڈالا۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ شہر کے اجتماعی زخم پر رکھا گیا نمک ہے۔ یہ دکھ اتنا گہرا ہے کہ جب عوام ایسے ڈمپر جلا دیتے ہیں تو یہ جرم نہیں، بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کی چیخ ہوتی ہے۔ شہر میں ہر ہفتے اوسطاً دو درجن حادثات بھاری گاڑیوں کے باعث ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر واقعات رات اور صبح کے وقت پیش آتے ہیں، جب شہر میں پولیس کی نگرانی کمزور اور روشنی ناکافی ہوتی ہے۔ کراچی کی ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس جرم کے سب سے بڑے شریک ہیں۔ رشوت کے بدلے بھاری گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی کھلی اجازت دی جاتی ہے۔ لائسنس، فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کے بغیر گاڑیاں چلتی ہیں۔ حادثے کے بعد، ملوث افراد باعزت بری ہو جاتے ہیں، جیسا کہ ایک اور واقعے میں ہوا۔ ریاست جس کا کام شہریوں کو تحفظ دینا ہے، یہاں قاتل گاڑیوں کی سرپرست بن بیٹھی ہے۔ سیف سٹی منصوبہ، جو 2016 میں کراچی کے لیے منظور ہوا تھا، آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ لاہور اور اسلام آباد میں کیمروں، نگرانی اور فوری ردعمل کے نظام سے جرائم میں واضح کمی آئی، مگر کراچی  جو ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے۔ آج بھی اندھیرے میں ہے۔ اگر سڑکوں پر ہائی ڈیفینیشن کیمرے، کنٹرول رومز اور خودکار ٹریفک مانیٹرنگ سسٹم فعال ہوتا تو شاید درجنوں جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ یہ تاخیر اور غفلت صرف انتظامیہ کی نالائقی نہیں بلکہ نظامی جرم ہے۔ جب ریاست شہریوں کو محفوظ بنانے میں ناکام ہو جائے، تو قانون خود بے معنی ہو جاتا ہے۔

کراچی کا ڈمپر مافیا محض چند گاڑیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک بااثر نیٹ ورک ہے جو تعمیراتی مٹیریل، ریت، بجری اور سرکاری ٹھیکوں سے منسلک ہے۔ ان کے پاس سرمایہ بھی ہے، سیاسی پشت پناہی بھی، اور پولیس و انتظامیہ تک براہِ راست رسائی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے، تو متاثرہ خاندان عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں جبکہ مافیا چند فون کالوں سے سب کچھ ’’حل‘‘ کروا لیتا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا تھا: ’’ڈمپر مافیا کا اثر اتنا گہرا ہے کہ اگر ہم کسی گاڑی کو بند بھی کر دیں، چند گھنٹوں میں کسی اوپر کے فون سے وہ دوبارہ سڑک پر آ جاتی ہے‘‘۔ یہ وہ نظام ہے جہاں پیسہ انصاف سے زیادہ طاقتور ہے، اور انسانی جان صرف ایک نمبر بن کر رہ گئی ہے۔ اس بحران میں سب سے مضبوط اور مسلسل آواز جماعت اسلامی کی رہی ہے۔ امیرِ جماعت کراچی منعم ظفر خان نے نہ صرف اعداد و شواہد کے ساتھ سندھ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا بلکہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ احتجاجی دھرنوں میں شریک ہو کر یہ ثابت کیا کہ یہ جدوجہد سیاسی نہیں بلکہ انسانی ہے۔

منعم ظفر خان نے واضح مطالبات رکھے: 1۔ دن کے وقت قاتل ڈمپروں کا شہر میں داخلہ بند کیا جائے۔ 2۔ حادثات کے متاثرہ خاندانوں کو فی الفور کم از کم ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے۔ 3۔ کرپٹ پولیس اہلکاروں اور ڈمپر مافیا کے سرپرستوں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے پانی مافیا، کے الیکٹرک مافیا، اور اب ڈمپر مافیا کے خلاف عوامی تحریکیں چلائیں۔ جب باقی جماعتیں خاموش تھیں، جماعت اسلامی عدالت میں بھی تھی اور سڑک پر بھی۔ 1993-94 کے ایک سرکاری سروے میں واضح تھا کہ بسیں اور ٹرک، جو شہر کی کل گاڑیوں کا صرف 4 فی صد ہیں، وہ 49 فی صد حادثات اور 65 فی صد ہلاکتوں کے ذمے دار ہیں۔ تین دہائیاں گزر گئیں مگر صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ سڑکیں تنگ، گاڑیاں بھاری، آبادی کئی گنا بڑھ چکی، مگر قانون وہیں رکا ہوا ہے۔

کراچی کے شہری ہر روز اپنی موت کے ساتھ سڑک پر نکلتے ہیں۔ یہ شہر اب گاڑیوں کا نہیں، غفلت کا قبرستان بن چکا ہے۔ عدالتیں اکثر ازخود نوٹس لینے میں تاخیر کرتی ہیں۔ کوئی مقدمہ برسوں چلتا ہے، کوئی فیصلہ فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف کی امید میں دربدر ہیں، جبکہ مافیا کے ڈرائیور چند دن بعد ضمانت پر باہر آ جاتے ہیں۔ شہریوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب وہ احتجاج کو جرم نہیں سمجھتے، بلکہ اپنی بقا کی آخری کوشش سمجھتے ہیں۔ یہ صورت حال کسی بھی ریاست کے لیے لمحہ فکر ہے۔ اگر شہری قانون پر اعتماد کھو بیٹھیں تو پھر ریاست کی بنیاد ہی متزلزل ہو جاتی ہے۔ یہ صرف ڈمپر مافیا کا مسئلہ نہیں۔ یہ کراچی کی زوال پذیر گورننس، تباہ حال سڑکوں، ٹریفک کے بگاڑ، پانی و گیس کے بحران، تعلیمی زبوں حالی اور بڑھتی ہوئی غربت کا اجتماعی چہرہ ہے۔ جب ریاست شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کرے، تو ہر شعبہ مافیا بن جاتا ہے۔ چاہے وہ پانی کا ہو، بجلی کا، یا ٹرانسپورٹ کا۔ یہاں تک کہ رہائش بھی محفوظ نہیں، جیسا کہ لیاری میں عمارت گرنے کے المناک واقعے نے ثابت کیا۔

اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ کراچی میں خون کا بہاؤ رکے تو فوری اقدامات ناگزیر ہیں: 1۔ بھاری گاڑیوں پر دن کے وقت مکمل پابندی۔ 2۔ رشوت کے نیٹ ورک کا خاتمہ اور پولیس احتساب۔ 3۔ ڈرائیوروں کی لازمی تربیت اور سخت لائسنسنگ نظام۔ 4۔ سڑکوں کی ازسرِ نو مرمت اور انفرا اسٹرکچر میں بہتری۔ 5۔ عوامی آگاہی مہم اور شہری تعاون۔ 6۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری معاوضہ اور قانونی مدد۔ 7۔ سیف سٹی منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

کراچی کے عوام کو مزید خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ قاتل ڈمپروں، کرپٹ پولیس، اور لاپروا حکومت سے سوال کرنا ہوگا: کیوں شہریوں کی زندگیاں سستی ہو چکی ہیں؟ کیوں قاتل ڈمپر آزاد گھوم رہے ہیں؟ کیوں ٹریفک پولیس رشوت لے کر موت کو شہر میں داخل کر رہی ہے؟ کیوں سیف سٹی منصوبہ اب تک فائلوں میں دفن ہے؟ کراچی کو بچانا کوئی سیاسی مہم نہیں؛ یہ انسانی بقا کا سوال ہے۔ اور اس جدوجہد میں جماعت اسلامی جیسی عوامی قوت کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب ایک ہو کر اس شہر کو مافیا کے چنگل سے آزاد کریں۔ چاہے وہ پانی کا مافیا ہو، بجلی کا، یا یہ خون بہانے والا ڈمپر مافیا۔

 

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھاری گاڑیوں ڈمپر مافیا نہیں بلکہ مافیا کے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار