پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ 804 تسبیح والا آئے گا اور یہ تمام ترامیم ملیا میٹ ہوجائیں گی، سیف اللہ ابڑو نے کہا ہے کہ حکومت مزے سے چند گھنٹوں میں ترمیم منظور کروالے گی مگر اپوزیشن کو بولنے کا موقع دے۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایسی قانون سازی کوئی پہلی بار نہیں ہورہی، میں تو حکومت کو کہتا ہوں آپ مزے کریں اور اس کو پاس کروائیں اور چند گھنٹوں کی بات ہے ترمیم پاس ہو جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہے کہ آپ اپوزیشن کو بولنے دیں اور آپ اپنا کام کریں ترمیم لائیں، ہمارے پارلیمانی لیڈر نے اس پر بات کی ہے اور سمندر کو کوزے میں بند کر دیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اب میں بات کروں گا تو کوزے کا ڈھکن کھل جائے گا اور سیلاب آ جائے گا، لڑائی ہو جائے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت کے سارے لوگ ہمارے پارلیمانی لیڈر سے خوش ہیں، میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میرا لیڈر ایماندار ہے، آپ بھی حلف دیں کہ آپ کا لیڈر ایماندار ہے۔

سینیٹر نورالحق قادری کا سینیٹ میں اظہار خیال

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر نور الحق قادری نے کہا کہ اس ترمیم سے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا گیا، پرویز رشید صاحب سلجھی ہوئی گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آپ بات شروع کرتے ہیں تو ایک بندے کی رہائی اور گرفتاری پر کرتے ہیں۔

سینیٹر نور الحق قادری نے کہا کہ ہم عمران خان کی رہائی کیلیے کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے آپ آزاد عدلیہ کو گرفتار کر رہے ہیں، علامہ اقبال کا آج یوم پیدائش ہے، علامہ اقبال کے خواب والے پاکستان کے ساتھ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ 804 تسبیح والا آئے گا اور یہ تمام ترامیم ملیا میٹ ہو جائیں گی، بس اُس کے آنے کی دیر ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود کا سینیٹ میں اظہار خیال 

جمعیت علما اسلام کے سینیٹر طلحہ محمود نے آئینی ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم وقت کی ضرورت ہے، پاکستان اس وقت چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے، انڈیا کے ساتھ جو جنگ ہوئی اس میں پاکستان کو اللہ نے سر خرو کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئینی معملات کو حل کرنے کے لئے ایک الگ عدالت کا ہونا ضروری ہے، یہ ایک اہم ترمیم ہو گی کیونکہ ہزاروں کیسز زیر التوا ہیں، وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لئے آئینی عدالت ہونا ضروری ہے۔

طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ ہمارا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ نیشنل سیکیورٹی کا ہے، اس وقت ہمیں اپنی فوج کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، بہت سارے ایسے ڈسٹرکٹ ہیں جو بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میری ہاؤس سے گزارش ہے کہ چترال میں کرپشن ، انفراسکچر اور ٹورزم کی پروموشن کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے، جس طرح باقی علاقے ترقی کے مستحک ہیں ویسے ہی یہ علاقے بھی ترقی کے مستحق ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سینیٹر نور الحق قادری انہوں نے کہا کہ کرتے ہیں گا اور

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی