بھارت: انیل امبانی کے خلاف تحقیقات، 351ملین ڈالر کے اثاثے منجمد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی:۔ بھارت کے ارب پتی تاجر انیل امبانی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا باقاعدہ طور پر آغاز کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کے مالیاتی جرائم کے ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے انیل امبانی گروپ سے منسلک 351 ملین ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ بھارتی سرکاری ذرائع کے مطابق ای ڈی نے ممبئی، دہلی اور چنئی میں واقع انیل امبانی کے خاندانی گھر سمیت رہائشی و کمرشل جائیدادوں پر لین دین پر پابندی عائد کر دی ہے۔
مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی انیل امبانی کے خلاف 2017ءسے 2019ءکے درمیان ایک پرائیویٹ بینک سے حاصل کیے گئے 568ملین ڈالر کے قرضوں سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تاہم اس سرمایہ کاری سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوا۔
بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی پر الزام ہے کہ ریلائنس ہوم فنانس اور ریلائنس کمرشل فنانس نے قرض کی رقم کو منی لانڈرنگ اور رشوت کے لیے استعمال کیا۔ ای ڈی ریلائنس کمیونیکیشنز میں بھی مبینہ طور پر 1.
گروپ کے اثاثے منجمد ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی متوقع ہے اور حکام نے کہا ہے کہ شفافیت اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات جاری رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انیل امبانی کے ڈالر کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔