گولارچی، ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گولارچی (نمائندہ جسارت) گولارچی شہر میں ملیریا اور ڈینگی کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ شہر کے مختلف محلوں اور بستیوں میں گندے پانی کے جوہڑ، نالوں کی بندش، اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث مچھروں کی افزائش تیزی سے بڑھنے لگی ہے۔ متعدد علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر مچھر مار اسپرے نہ ہونے سے شہری مچھر اور بیماریوں کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ شہریوں کے مطابق گولارچی کے مرکزی اور نواحی علاقوں میں کئی روز سے گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں، جبکہ نکاسی آب کا مؤثر نظام نہ ہونے سے گلیوں میں گندہ پانی جمع ہو گیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں شام ہوتے ہی مچھروں کے جھنڈ نکل آتے ہیں، جس سے بچوں اور بزرگوں میں ملیریا اور ڈینگی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسپتالوں میں روزانہ درجنوں مریض بخار، جسمانی درد اور دیگر علامات کے ساتھ رجوع کر رہے ہیں۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ گولارچی میں فوری طور پر صفائی ستھرائی کے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گندے پانی کی نکاسی کرائی جائے، اور شہر بھر میں باقاعدگی سے اسپرے مہم چلائی جائے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔اس حوالے سے ٹاؤن کمیٹی گولارچی کے چیئرمین عبدالسلام آرائیں نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ٹاؤن انتظامیہ شہریوں کے مسائل سے آگاہ ہے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے تعاون سے مچھر مار اسپرے مہم شروع کر دی گئی ہے، جس کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار اسپرے کیا جا رہا ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ شہریوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنے گھروں اور آس پاس کے علاقوں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔