آسٹریلیا میں مسلمان خواتین کے لباس پر پابندی کے حق میں احتجاج کرنے والی انتہا پسند سیاستدان پالین ہنسن کو پارلیمنٹ میں برقعہ پہننے پر ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ’ون نیشن‘ پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر پالین ہنسن پیر کے روز سینیٹ میں مکمل برقعہ پہن کر داخل ہوئیں، تاکہ وہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی سے متعلق اپنا بل پیش کر سکیں۔ تاہم دیگر سینیٹرز نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سینیٹ نے ان کی سرزنش بھی کی۔

مسلم گرینز کی سینیٹر مہِرین فاروقی نے ہنسن کے عمل کو ’نسل پرستی‘ قرار دیا۔

گزشتہ برس وفاقی عدالت بھی قرار دے چکی ہے کہ ہنسن نے مہرین فاروقی کے خلاف نسلی امتیاز برتا تھا، جس فیصلے کے خلاف وہ اس وقت اپیل کر رہی ہیں۔

آزاد سینیٹر فاطمہ پیمن نے اس عمل کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات آسٹریلیا کے مسلم شہریوں کی بے عزتی ہیں۔

منگل کے روز وزیر خارجہ اور حکومتی رہنما پینی وونگ نے سینیٹ میں ہنسن کی باقاعدہ سرزنش کی قرارداد پیش کی، جو 55 کے مقابلے میں 5 ووٹوں سے منظور ہوئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ہنسن کے اقدامات کا مقصد لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا اور مذاق اڑانا تھا۔

فیس بک پر اپنے ردعمل میں ہنسن نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں برقعہ نہ پہنیں، تو ملک میں برقعہ پر پابندی نافذ کی جائے۔

پالین ہنسن اس سے قبل 2017 میں بھی پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر آئی تھیں اور اس وقت بھی ملک بھر میں پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔

مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے

تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی