سپہ سالار کے خلاف مہم کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے، مولانا طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
لاہور:
چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ سپہ سالار کے خلاف مہم کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں طاہر اشرفی نے کہا کہ پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو فوج کے گن گاتی تھی، فوج کسی مکتبہ فکر یا جماعت کی نہیں بلکہ پاکستانیوں کی ہے۔ پاکستان دفاعی طور پر مستحکم ہے اب معاشی طور پر مستحکم ہونا ہے، ملک میں افراتفری کا مقصد ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنے جا رہا لیکن ملک میں پروپیگنڈہ شروع کیا گیا، پاکستان و سعودی عرب کا اسرائیل سے کوئی معاہدہ نہیں، انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کا متفقہ فتویٰ ہے کہ بے گناہوں کا قتل کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ افغان قیادت سے کہتے ہیں ایسے عناصر جو بھارت کی ایما پر پاکستان پر حملہ کررہے ہیں انہیں کنٹرول کریں۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ ایک طبقہ فوج اور سپہ سالار کیخلاف جو چاہے کہے تو ہم کیسے خاموشی اختیار کریں، موجودہ حالات میں فوج کو کمزور کرنا کون چاہتا ہے؟، جب دشمن افغانستان کے ذریعے حملہ آور ہے اسی دوران سپہ سالار کے خلاف ایک جماعت کی جانب سے مہم جاری ہے۔
انکا کہنا تھا کہ جنرل کیانی پاکستان میں موجود ہیں لیکن ان کے خلاف پروپیگنڈہ ہوتا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں ہیں۔ عبد الوحید کاکٹر، مرزا اسلم بیگ، جہانگیر کرامت، جنرل ظہیر اسلام سمیت دیگر فوجی سربراہان پاکستان میں موجود ہیں، فوج کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ ختم نہیں ہو رہا، کیا اس سے ملک کی خدمت ہو رہی ہے؟۔ جب سپہ سالار کو گالیاں دیں گے تو جواب توملے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے والد کی پہچان پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ہے، اُن پر حملہ قابل قبول نہیں، ایک ایسا شخص جس نے عبد القدیر کے ساتھ مل کر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا تو اُسے نشانہ بنانے پر پتہ لگ رہا ہے کہاں سے ڈوریاں ہل رہی ہیں۔ نام نہاد لبرل جنہیں چوہدری صاحب سے تکلیف ہورہی ہے وہ بتائیں انہوں نے اس ملک کیلئے کیا کیا؟۔ اگر آج چوہدری صاحب کا بیٹا ڈی جی آئی ایس پی آر بن گیا ہے تو انہیں تکلیف ہو رہی ہے۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ کبھی یہ انہیں میر جعفر کہتے تو کبھی کچھ کہتے ہیں، اپیل کرنا چاہتا ہوں سیاستدان سیاسی لڑائی لڑیں لیکن سلامتی کے اداروں کو سیاست سے دور رکھیں ورنہ قانون راستہ اختیار کرے گا، صدر مملکت افغان دہشت گردی و معیشت پر اے پی سی بلائیں، آصف علی زرداری آگے بڑھیں پاک افغان جنگ ہورہی ہے تو اپنا احسن کردار ادا کریں، جمادی الثادی کے ماہ سے ملک بھر میں نظام خلافت راشدہ کانفرنسز شروع کریں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اشرفی نے کہا طاہر اشرفی سپہ سالار نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں