الاسکا میں 7.0 شدت کے خوفناک زلزلے سے زمین لرز اٹھی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ALASKA:
امریکی ریاست الاسکا کے دور دراز پہاڑی علاقے یاکوٹیٹ میں گزشتہ رات گئے 7.0 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا جس نے زمین کو لرزا کر رکھ دیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز زمین سے صرف 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جس کی وجہ سے دھچکے کی شدت سطح پر کئی گنا زیادہ محسوس کی گئی۔
کئی سیکنڈز تک زمین ہلتی رہی،برف پوش چوٹیاں کانپ اٹھیں اور دور دور تک برفانی تودے گرنے کی آوازیں گون گونجتی رہیں۔
یہ علاقہ الاسکا اور کینیڈا کی سرحد کے ساتھ واقع ہے جہاں آبادی انتہائی کم ہے، زلزلے کی شدت اتنی شدید تھی کہ لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر سڑکوں پر پناہ لی۔
اب تک سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی، تاہم الاسکا زلزلہ سینٹر اور پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے سونامی لہریں آسکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔