انڈونیشیا کے صدر ابووو سوبیانتو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں اسلام آباد کی فضاؤں نے ان کا فقیدالمثال استقبال کیا۔ پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر کے چھ جنگی طیاروں نے معزز مہمان کے طیارے کا گھیراؤ کرتے ہوئے روایتی فضائی سلامی پیش کی، جو دونوں ممالک کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کی علامت قرار دی گئی۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے بذاتِ خود وفد کے ہمراہ مہمانِ خصوصی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ اسکول کے بچوں نے روایتی گرمجوشی کے ساتھ پھول پیش کیے۔ استقبال کا یہ شاندار منظر پاکستان اور انڈونیشیا کے برادرانہ رشتے کی گہرائی کا واضح اظہار تھا۔
پاک فضائیہ کے جے ایف-17 طیاروں کی جانب سے فضائی سلامی اور مہمان طیارے کو حفاظتی حصار میں لینا ایک ایسا پروٹوکول ہے جو نہ صرف باہمی احترام کی روایت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور دوستی کے دیرینہ رشتے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ انڈونیشین صدر نے اس پرتپاک خیرمقدم پر پاکستانی عوام، قیادت اور پاک فضائیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، اور صدر سوبیانتو کا یہ پہلا دورۂ اسلام آباد دونوں ملکوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صدر پرابووو سوبیانتو دورے کے دوران وزیراعظم سے وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ صدر آصف علی زرداری، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی اہم ملاقاتیں کریں گے۔
دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر جامع گفتگو متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک علاقائی و عالمی سطح پر شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے فیصلے بھی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونے کا امکان ہے، جو مستقبل کے تعاون کی نئی راہیں کھولیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انڈونیشیا کے پر پاکستان
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔