امریکی ارب پتیوں کی دولت میں 700 ارب ڈالر کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-13
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) گزشتہ برس 10 سرفہرست امریکی ارب پتی افراد کی دولت میں تقریباً 700 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ برطانوی امدادی ادارے آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال امریکا کے ٹاپ 10 ارب پتی افراد کی دولت میں مجموعی طور پر 698 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ ان ارب پتی افراد میں ٹیسلا کے بانی ایلون مسک، ایمازون کے بانی جیف بیزوز، امریکی بزنس مین لیری ایلسن اور میٹا کے سربراہ مارک زکر برگ سمیت دیگر شامل ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے امریکی عدم مساوات نئی بلندیوں تک جانے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں کی انتظامیہ نے امریکا کی بڑھتی ہوئی دولت کے فرق کو بڑھا دیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد سے زائد امریکی شہری کم آمدنی والیافراد میں تصور کیے جاتے ہیں جن کی خاندانی کمائی قومی غربت کی لکیر کے 200 فیصد سے بھی نیچے ہے۔دوسری جانب بھارت میں منی لانڈرنگ کے الزامات پر انیل امبانی گروپ کے 35 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ آف انڈیا نے انیل امبانی کی ممبئی میں واقع خاندانی رہائش گاہ سمیت نئی دہلی اور چنائے میں واقع رہائشی یونٹس اور زمینوں پر لین دین پر پابندی عائد کردی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارب پتی مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی انیل امبانی کے گروپ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات جاری ہے۔ امبابی گروپ نے 2017 سے 2019 کے درمیان بھارت کے بینک سے 56 کروڑ ڈالر سے زائد قرض حاصل کیا تھا، ان رقوم سے کی گئی سرمایہ کاری سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب پتی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔