اپوزيشن نے ترمیم کے ایک نکتے پر تقریریں کیں، مطلب باقی نکات تسلیم کرلیے: پرویز رشید
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اپوزيشن نے ترمیم کے صرف عدلیہ سے متعلق ایک نکتے پر تقریریں کیں، اس کا مطلب ہے کہ اپوزيشن نے ترمیم کے باقی نکات کو تسلیم کرلیا۔سینیٹ میں خطاب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ علی ظفر نے تصویر کا وہ رخ دکھایا جو انہیں پسند ہے، تصویر کا وہ رخ نہیں دکھایا جس نے عدلیہ کو پارٹی کے آلہ کار میں بدلنے کی کوشش کی۔انھوں نے کہا کہ جج کے چوغہ کے نیچے ایک سیاسی جماعت کا جھنڈا چھپا لیا اور اس کے مقاصد کے لیے کردار ادا کیا، اب ضروری ہے کہ نظام میں بہتری لائی جائے۔سینیٹر پرویز رشید کے مطابق اپوزيشن نے ترمیم کے صرف عدلیہ سے متعلق ایک نکتے پر تقریریں کیں، اس کا مطلب ہے کہ اپوزيشن نے ترمیم کے باقی نکات کو تسلیم کرلیا۔دوسری جانب سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینی عدالت سے متعلق میثاقِ جمہوریت کی تجویز پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دستخط بھی موجود ہیں، 2006 میں لندن میں بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے درمیان طے ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی سے ناصرف بانی پی ٹی آئی بلکہ مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اتفاق کیا تھا۔ادھر ن لیگ کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ وہ عدلیہ جو آئین کی دھجیاں اڑا کر آپ کے ساتھ سہولت کاری کرتی تھی وہ آپ کو اچھی لگتی تھی، ثاقب نثار اور بندیال اپنے دوستوں کو بینچ میں ساتھ بٹھا کر فیصلے کرتے تھے، کیا وہ عدلیہ ٹھیک تھی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اپوزیشن نے ترمیم کے پرویز رشید
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔