اوچ شریف: بس نے موٹر وے پولیس کی گاڑی کو روند ڈالا، سب انسپکٹر سمیت 3 اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
(فاران یامین،اسرار خان)موٹر وے ایم 5 پر اوچ شریف انٹر چینج کے قریب افسوسناک حادثہ پیش آگیا۔
موٹر وے پولیس حکام کے مطابق مسافر بس نے موٹر وے پولیس کی گاڑی کو روند ڈالا، موٹر وے پولیس کے دو افسروں سمیت تین اہلکار جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں سب انسپکٹر مشتاق، اسسٹنٹ سب انسپکٹر ناصر اور کانسٹیبل اسامہ شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ افسوسناک واقعہ موٹر وے ایم 5 لوکیشن 662 پر اوچ شریف کے قریب پیش آیا، موٹر وے پولیس آفیسرز ڈیوٹی شفت ختم کرکے اوچ شریف اپنی رہائش گاہ پر آرہے تھے، مسافر بس کراچی سے ملتان جارہی تھی۔
وزیر اعلی پنجاب برازیل کے سرکاری دورہ کے بعد جاتی امراء پہنچ گئیں
موٹر وے پولیس نے مزید بتایا کہ بس کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور کارروائی کے لئے پولیس کے حوالے کرکے تفتیش شروع کردی۔
دوسری جانب ہربنس پورہ، کینال روڈ پر صحافی کالونی کے قریب خطرناک کرتب کا مظاہرہ کرتی تیز رفتار کار بے قابو ہو کر الٹ گئی،
جس سے 6 افراد زخمی ہو گئے،حادثے کی زد میں 2 موٹر سائیکل سوار بھی آئے، زخمیوں کو سروسز ہسپتال منتقل کر دیا ۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری آج ہوگی
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ کار ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔
ایم اور ٹریفک حادثہ میں موٹروے ایم-4 پر شورکوٹ کے نزدیک بس اور ٹریلر میں ٹکر سے ڈرائیور جاں بحق، 2 زخمی ہوگئے ۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق بس کراچی سے لاہور جارہی تھی، 35 مسافر سوار تھے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موٹر وے پولیس اوچ شریف
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔