یوکرین : روسی ڈرون کا شکار کرنے کیلیے مچھلی کا جال متعارف
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرین نے روس کے تباہ کن ڈرون کا مچھلیوں کی طرح شکار کرنے کے لیے فرانس سے حیرت انگیز ٹیکنالوجی منگوا لی۔ فرانس کے عام ماہی گیری کے جال اب یوکرین کے آسمانوں میں روسی ڈرونز کا شکار کریں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی خیراتی ادارے کرنک سولیڈیریٹیز نے فرانس سے ایسے جالوں کی 2 بڑی کھیپیں یوکرین بھیجی ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 280 کلومیٹر ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ جال اب محاذِ جنگ پر فوجیوں اور شہریوں کو ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے ایک غیر متوقع مگر مؤثر دفاعی آلہ بن چکے ہیں۔ روس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے چھوٹے اور کم قیمت ڈرونز عام طور پر دھماکا خیز مواد سے بھرے ہوتے ہیں، جو دور سے 25 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں یوکرینی افواج ان جالوں سے سرنگ نما حفاظتی ڈھانچے تیار کر رہی ہیں، جن میں ڈرون کے پر الجھ کر نظامِ پرواز ناکام ہو جاتا ہے۔ ادارے کے لاجسٹکس سربراہ کرسچین ابازیو کے مطابق یہ جال دراصل گھوڑوں کے بال سے بنے ہوتے ہیں اور گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے بنائے گئے تھے، لیکن اب یہ جنگی میدان میں ڈرون کے حملے کی طاقت برداشت کرنے کے قابل ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ان جالوں کا استعمال طبی کیمپوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا، تاہم اب انہیں سڑکوں، پلوں اور اسپتالوں کے داخلی راستوں پر بھی نصب کیا جا رہا ہے۔ یوکرین کی 93 ویں بریگیڈ کی رابطہ افسر ایرینا ریباکووا کے مطابق دونیتسک کے علاقے میں اب ہر جگہ ایسے جالی دار سرنگی نظام بنائے جا رہے ہیں،انہوں نے تسلیم کیا کہ روسی ڈرون آپریٹرز ان جالوں سے بچنے کی نئی ترکیبیں آزما رہے ہیں، تاہم ان کے بقول یہ کوئی جادوئی حل نہیں، لیکن ہماری حفاظت کے لیے ایک نہایت مؤثر رکاوٹ ضرور ہیں۔ دوسری جانب سوئیڈن اور ڈنمارک کے ماہی گیر بھی سیکڑوں ٹن پرانے جال یوکرین کو عطیہ کر رہے ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔