بھارتی طیاروں کا بحران: جنگ سے ایئر شو تک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
بھارتی طیاروں کا بحران: جنگ سے ایئر شو تک WhatsAppFacebookTwitter 0 23 November, 2025 سب نیوز
تحریر: محمد محسن اقبال
برسوں سے پاکستان اس دن کا منتظر تھا جب ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ پاکستانی سرزمین پر کھیلا جائے گا۔ یہ خواہش محض کھیل تک محدود نہ تھی، بلکہ اس امید کی علامت تھی کہ شاید اس میچ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کچھ کمی آسکے۔ خطے کے حالات بھی پاکستان کے حق میں بدل رہے تھے، اور ماضی کی کرکٹ ڈپلومیسی کی بازگشت آج بھی اجتماعی یادداشت میں باقی تھی۔ دنیا بھر کی ٹیمیں پاکستان کے امن، استحکام اور مہمان نوازی کو تسلیم کرتے ہوئے بلا جھجھک پاکستان آ رہی تھیں۔
مگر اس کے برعکس بھارت مسلسل ہچکچاہٹ کا شکار رہا—اور اپنے اس مؤقف پر جما رہا کہ وہ اپنی ٹیم پاکستان نہیں بھیجے گا، حالانکہ زمینی حقائق اس بیانیے کی تائید نہیں کرتے تھے۔
لیکن پھر مئی کے اوائل میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔
بھارت، جو کرکٹ کیلئے آنے کو تیار نہ تھا، اچانک پاکستان میں یوں نمودار ہوا کہ نہ کوئی میچ تھا، نہ کوئی میدان—بلکہ آگ اور بارود سے کھیلا جانے والا ایک ہنگامی اور غیر اعلانیہ مقابلہ۔ وہ رات کے اندھیرے میں آیا، نہ دعوت، نہ اطلاع، اور نہ ہی ہمسائیگی کے بنیادی آداب کو ملحوظ رکھا۔
پاکستان چند لمحوں کیلئے حیران ضرور ہوا، جیسے بھارت وہی میچ کھیلنے آگیا ہو جس سے وہ برسوں بھاگتا رہا تھا—لیکن نہایت خطرناک صورت میں۔ تاہم پاکستان نے ذمہ دار ہمسائے کی طرح معاملے کو تحمل، ہوش اور حکمت سے نمٹایا۔ اگر بھارت پانچ روزہ مقابلہ لڑنے پر بضد تھا تو پاکستان نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ اس کا جواب ایک ایسی ٹیم کی طرح دے گا جو اپنے باؤلرز، فیلڈرز اور اجتماعی نظم و ضبط پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔ چنانچہ 9 مئی کی درمیانی رات ایک مختصر مگر فیصلہ کن جھڑپ کا آغاز ہوا—ایسی جھڑپ جسے شور نہیں، بلکہ انجام کی وضاحت نے تاریخ میں محفوظ کیا۔
بھارت جس غرور کے ساتھ اس میدان میں اترا تھا، وہ چند ’اوورز‘ بھی نہ کھیل سکا۔ چھ گھنٹوں کے اندر پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کی جارحیت کو یوں بے نقاب کیا جیسے تیز رفتار یارکرز غیر مستحکم وکٹیں اڑا دیں۔ اس کے بعد آنے والی ’باؤنسرز‘ نے بھارتی صفوں کو بوکھلا کر رکھ دیا۔ جب بھارتی قیادت نے پاکستان کی درست حکمت عملی، تیاریوں اور عزم کو دیکھا تو انہوں نے خود ہی مقابلہ ختم کرنے کی ضد پکڑ لی۔ اس ’میچ‘ کا اسکور بورڈ بھارت کے حق میں نہ تھا، اور اس مہم جوئی کا بوجھ اس کی اپنی غلط فہمیوں کے نیچے دب کر رہ گیا۔
معاملہ یہیں ختم ہو سکتا تھا، مگر عالمی سیاست میں کچھ بھی آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ اس جھڑپ کے فوراً بعد امریکی صدر کے وہ بیانات سامنے آئے جنہوں نے بھارت کی سیاسی قیادت کو سخت جھنجھوڑ دیا۔ نہایت بے تکلفی اور طنزیہ انداز میں وہ بار بار پوچھتے اور بدل بدل کر بتاتے رہے کہ بھارت کے کتنے طیارے مار گرائے گئے—کبھی پانچ، کبھی چھ، اور کبھی سات۔ یہ بدلتے ہوئے اعداد دنیا بھر کے لئے تفریح کا باعث بن گئے۔
مگر بھارت کے وزیراعظم کیلئے یہ سوال مستقل شرمندگی کا سبب بن گیا۔ انتخابی مہم کے دوران جہاں بھی گئے، عوام طنزیہ انداز میں یہی پوچھتے:‘‘طیارے کتنے تھے؟’’یہ منظر بھارتی فلم ”شعلے” کے مشہور مکالمے کی یاد دلاتا تھا، جب گبر سنگھ پوچھتا ہے:‘‘کتنے آدمی تھے؟’’یوں لگتا تھا جیسے زندگی نے سیاست کو فلمی طنز کے قالب میں ڈھال دیا ہو۔
مئی کے بعد بھی امریکی صدر کے انکشافات جاری رہے، ہر نیا بیان نئی خجالت کا سامان بنتا رہا۔ اور جب بھی طیاروں کا ذکر آتا، ایک اور تازہ واقعہ ذہن میں تازہ ہو جاتا—جو حال ہی میں دنیا کے سامنے پیش آیا تھا۔
دبئی ایئر شو میں، جہاں دنیا بھر کے طیارے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کر رہے تھے، ایک بھارتی جنگی طیارہ سبکی کا باعث بن گیا۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ طیارے سے تیل رس رہا ہے اور بھارتی ٹیکنیشنز پلاسٹک کے شاپنگ بیگز اور ڈبوں میں تیل جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں—گویا کسی ورکشاپ میں کھڑی بوسیدہ مشین ہو۔ جدید ائرفورس کی بجائے یہ منظر بھارتی عسکری نظام کی بدانتظامی اور ناقص نگہداشت کا عکاس تھا۔
ابھی یہ ہزیمت تازہ ہی تھی کہ ایک اور سانحہ پیش آگیا۔ بھارتی تیجس جنگی طیارہ شو کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، جس میں ونگ کمانڈر وکرم سنگھ ہلاک ہوگئے۔ یہ مسلسل حادثات اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کرتے گئے کہ بھارتی طیارے—چاہے نمائش میں ہوں یا عملی کارروائی میں—صلاحیت کی بجائے ناکامی کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ اور مئی کی جھڑپ کے بعد تو یہ سلسلہ اور بھی تیزی سے بڑھنے لگا۔
بھارت کی بلا اشتعال دراندازی کے بعد پاکستان نے اپنے فضائی حدود بھارتی مسافر طیاروں کیلئے معطل کر دیں۔ یہ فیصلہ حکمت اور خود مختارانہ اختیار کے عین مطابق تھا۔ اس کے بعد سے بھارتی ائیرلائنز کو طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اخراجات اور نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یوں مسافر پروازیں بھی بھارت کی غلط حکمت عملی کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
مئی کا مہینہ یوں جنگی طیاروں سے لے کر مسافر جہازوں تک بھارت کیلئے نقصانات، رکاوٹوں اور رسوائیوں کی علامت بن گیا۔
لیکن سبق واضح ہیں۔ پاکستان خطے میں امن، وقار اور استحکام چاہتا ہے۔ اس نے کرکٹ میں تحمل، سفارت کاری میں بردباری، اور دفاع میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر امن یک طرفہ نہیں ہوتا۔ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ اس کے اقدامات نہ صرف فوری فضا کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ دنیا ترقی اور تعاون کی جانب بڑھ رہی ہے—ایسے میں مہم جوئی کسی کے مفاد میں نہیں، بالخصوص ایسے ملک کے جو بار بار اپنی ہی غلطیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
خطہ سکون چاہتا ہے، تماشا نہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام ترقی کے مستحق ہیں، تباہی کے نہیں۔ بھارت کیلئے یہی بہتر ہے کہ وہ اشتعال کی بجائے امن کو ترجیح دے، اور کسی ایسی غلطی سے بچے جو سرحدوں یا فضا کو ایک اور خطرناک میدان میں تبدیل کر دے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہری پور سے پی ٹی آئی 29 کے 29 پولنگ سٹیشن جیتے گی: عمر ایوب بت شکنوں کا بت پرستوں سے سودا نظام بدلنا ہوگا۔ صدارتی استثنیٰ: اختیار اور جواب دہی کے درمیان نازک توازن ایوب خان ۔۔۔ کمانڈر ان چیف سے وزیرِاعظم اور صدرِپاکستان تک ستائیسویں آئینی ترامیم۔ مجسٹریٹی نظام کی واپسی ،بیورو کریسی کو مزید طاقتور بنانے کا منصوبہ۔ بھارتی سازش 1947 نومبر 6 مسلمانوں کا جموں میں قتل عامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔