data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مناما (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِاعظم شہباز شریف نے بحرین کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی اور کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت، آئی ٹی، معدنیات، توانائی اور سیاحت کے شعبہ جات طویل مدتی شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔ یہ بات انہوں نے بحرین کے 2 روزہ سرکاری دورے میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں بحرین کے نائب وزیراعظم، وزرائے خارجہ، خزانہ و قومی معیشت، صنعت و تجارت کے حکام سمیت پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر موجود تھے۔وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان باصلاحیت افرادی قوت، وسائل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ ہے جس میں کاروبار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، جب اس میں بحرین کی مالی مہارت اور کاروباری بصیرت شامل ہو تو امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، پاکستانی اور بحرینی کاروباری شخصیات کو بتایا کہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر جلد دستخط کیے جانے کی توقع ہے جس سے تجارتی تعاون مضبوط ہوگا۔ وزیرِاعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد و وزیراعظم سلمان بن حمد الخلیفہ کا اپنی اور اپنے وفد کی پرتکلف میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ثقافت، مذہب، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں اور دہائیوں سے اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد پر قائم ہیں‘ اب ہمیں ان بہترین تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ نوجوان آبادی کے چیلنج کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور مہارت کی تربیت کے ذریعے ایک بڑی قومی قوت میں تبدیل کیا جائے گا۔وزیرِاعظم نے بحرین میں مقیم ایک لاکھ سے زاید پاکستانیوں کی اپنے میزبان ملک اور وطن کے لیے خدمات کو سراہا، جنہوں نے گزشتہ برس 484 ملین ڈالر کی ترسیلات وطن بھیجیں۔ قبل ازیں خطاب میں بحرین کے وزیرِ خزانہ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے کہا کہ پاکستانیوں کی نسل در نسل خدمات نے بحرین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور بہت سے پاکستانیوں نے بحرین کو اپنا دوسرا گھر بنا لیا ہے، پاکستان کے مالیاتی ادارے نصف صدی سے زاید عرصے سے بحرین کے مالی شعبے کے اہم ستون رہے ہیں۔وزیر نے بتایا کہ بحرین ایک نسلیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور خطہ جدت، پائیداری اور تکنیکی بہترین کارکردگی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جس میں بحرین اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں بحرین کی ہائی کیپیسٹی سب میرین کیبلز اور وسیع ہوتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اسے خطے میں ڈیٹا اور کنیکٹیویٹی کا مرکز بنا رہے ہیں، جو پاکستان کی سافٹ ویئر انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکورٹی اور جدید ترین ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بحرین وژن 2030ء کو آگے بڑھاتے ہوئے اور وژن 2050ء کی بنیاد رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنے ساتھ ایک مشترکہ معاشی مستقبل کا شراکت دار سمجھتا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف بحرین کے نائب وزیر اعظم کی جانب سے اقتصادی ترقیاتی بورڈ کے ہیڈکوارٹرز مناما میں منعقدہ استقبالیہ میں کاروباری برادری سے خطاب کر رہے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان نے کہا کہ بحرین کے انہوں نے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار