ٹاؤنز کو دیا جانیوالا پیسہ کہاں جاتا ہے؟، جماعت اسلامی کو صرف شور مچانا آتا ہے، سعدیہ جاوید
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی میں نالے میں بچے کے گرنے کے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ واقعہ انتظامی غفلت کی وجہ سے ہوا، ذمہ داروں کو سزا ملے گی، ہمارے پاس سیاست کرنے کیلئے بہت باتیں ہیں، ہر ماہ ٹاؤنز کو 12 لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ بہت دلخراش واقعہ ہے، ہمارے پاس سیاست کرنے کیلئے بہت باتیں ہیں، ٹاؤنز کو دیا جانیوالا پیسہ کہاں جاتا ہے؟، جماعت اسلامی والوں کو صرف شور مچانا آتا ہے۔ کراچی میں نالے میں بچے کے گرنے کے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ بہت دل خراش واقعہ ہے، اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سیاست کرنے کیلئے بہت باتیں ہیں، ہر ماہ ٹاؤنز کو 12 لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں، ٹاؤنز کو دیا جانے والا پیسہ کہاں جاتا ہے؟، جماعت اسلامی والوں کو صرف شور مچانا آتا ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ واقعہ انتظامی غفلت کی وجہ سے ہوا، ذمہ داروں کو سزا ملے گی، نعمت اللہ خان شہر کو کنکریٹ کا جنگل بناکر گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سعدیہ جاوید ٹاؤنز کو
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔