بچے کی ہلاکت پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج، بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کا واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیر کو نیپا چورنگی کے قریب گٹر میں گر کر جاں بحق معصوم بچے ابراہیم کی موت پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا، قائد حزب اختلاف اس معاملے پر بولنا چاہتے تھے اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کرگئے.
سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت شروع ہوا۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر جاں بحق ہونے والے بچے ابراہیم کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
ایم کیو ایم کے رکن افتخار عالم نے اس واقعہ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کیا کراچی کے بچے اس طرح گٹروں میں گرتے رہیں گے؟ حکومت اس طرح کے واقعات کا تدارک کب کرے گی، کھلے ہوئے مین ہول موت کو دعوت دینے کے مترادف ہیں، معصوم بچے کی لاش گیارہ گھنٹے کے بعد ملی ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ اس ماں سے پوچھیں جس کا لعل گیا ہے، ہمارے کونسلر اور ٹاؤن چیئرمین وہاں پر موجود تھے، میئر کراچی اور ضلعی انتظامیہ کوئی جواب نہیں دے رہے تھی، بی آر ٹی ریڈ لائن پر یہ تیسرا واقعہ ہے، اس واقعے کی تحقیقات کی جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کراچی کے شہری کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔
رکن اسمبلی ریحان بندوکڑا نے کہا کہ کراچی کا مئیر کون ہے، ٹاﺅن چیئرمین کون ہیں؟ سیاست چھوڑ دیں ہم سب ممبر ہیں جس فیملی کے ساتھ جو ہوا سب کو اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے متوفی بچے کے تصویر اپنے ہاتھ میں اٹھا رکھی تھی۔ ریحان بندوکڑا نے کہا کہ یہ مسکراتا چہرا دکھا رہا ہوں وہ دنیا سے چلا گیا۔ اس موقع پرکئی ارکان آبدیدہ ہوگئے ۔ خواتین ارکان حنا دستگیر اور ہیر سوہو اپنے آنسو پوچھتی نظر آئیں۔
ریحان بندوکڑا نے کہا کہ کسی کا نام نہیں لوں گا صرف یہ سوچیں کہ آپ کا بیٹا ہوتا تو کیا ہوتا، اسمبلی میں ہم سب مرد چوڑیاں پہن کر بیٹھے ہیں۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ایک انتہائی المناک واقعہ ہے جس پر ہر شخص غمزدہ ہے، متوفی بچے کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں، اسمبلی میں اس طرح کے مسائل پر ضرور بات ہونی چاہیے تاکہ دیگر لوگ محفوظ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بچہ کسی کا بھی ہوسکتا تھا، معصوم بچے کی تصویر دیکھ کر دکھ ہورہا تھا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ جیسے ہی واقعہ ہوا، ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں، ریسکیو کے عمل کی تمام تصویریں موجود ہیں۔ ان کی میئر کراچی سے بات ہوئی ہے، انہوں نے بتایا کہ اس سال 88 ہزار مین ہولز پر ڈھکن لگائے گئے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جس کسی کی کوتاہی کے سبب واقعہ پیش آیا اس کو سزا ملنی چاہیے، بطور وزیر اگر یہ میری ذمہ داری ہے اور میں نے کوتاہی کی تو مجھے بھی عہدہ چھوڑنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ جس کسی بھی محکمہ کے کسی افسر کی کوتاہی ہوگی تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
اس موقع پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی اس معاملے پر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی نے ان سے کہا کہ وہ توجہ دلاﺅ نوٹس نمٹ جانے کے بعد انہیں بات کرنے کا موقع دیں گے۔ اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کے ارکان سخت برہم ہوگئے، وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر شور شرابہ کرنے لگے اور بعدازاں ایوان کی کارروائی سے واک آﺅٹ کرکے چلے گئے جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے کئی ارکان کے توجہ دلاﺅ نوٹس پر بات نہیں ہوسکی۔
ایوان کی کارروائی کے دوران بعض ارکان کے توجہ دلاﺅ نوٹس بھی زیر بحث آئے۔ ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے اپنے ایک توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ اپوزیشن ممبر کو اختیار نہیں ہے کہ حلقوں پر جا کر دیکھ سکیں کہ وہاں کس معیار کا ترقیاتی کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے نے جہانگیر روڈ کا 57 کروڑ کا کام کیا وہ روڈ آج ختم ہوگئے پھر پیسے مانگے جارہے ہیں۔ ان افسران کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ آپ ان افسران کے خلاف رولنگ دیں۔
ارلیمانی سکریٹری بلدیات سراج قاسم سومرو نے کہا کہ کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے کس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ کام معیاری نہیں ہوا۔ مذکورہ اسکیم میں ڈرینیج لائین بچھائی جارہی ہے جس اسکیم کا ذکر کیا گیا اس پر کام ابھی جاری ہے۔
رکن اسمبلی محمد اویس نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر کچرا جمع کرکے آگ لگائی جاتی ہے، مذکورہ سائٹ پر کچرا جمع کرنے کے بجائے باہر پھینکا جاتا ہے۔
پارلیمانی سکریٹری قاسم سومرو نے کہا کہ شاہراہ بھٹو کی سائیڈ پر جی ٹی ایس بن رہا ہے جس کا افتتاح دسمبر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگاتے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رکن سجاد علی نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ لیاری بہار کالونی میں پارک کی حالت خراب ہے، آدھا پارک خواتین کے لیے رکھا گیا ہے۔ علاقے میں ایک ہی پارک ہے جس میں مسائل ہیں، شاہ بھٹائی روڈ پر ایک پارک پر مذہبی جماعت کا قبضہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک پارک میں گدھے باندھے جاتے ہیں وہاں پی پی کے مقامی رہنما نے کہا کہ پارک میرا ہے۔
سراج قاسم سومرو نے کہا کہ پارک میں پانی کی قلت ہے وہاں واٹر پمپ لگائے جارہے ہیں، پمپ لگنے کے بعد وہ پارک شروع ہوگا۔ کلری گرائونڈ میں فٹبال گراﺅنڈ 300 ملین روپے سے مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پارک بہت جلد مکمل ہو جائیں گے۔
ایوان کی کارروائی کے دوران شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کا ترمیمی بل پیش کیا گیا جو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔
ایوان کی کارروائی کے دوران محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اورساحلی ترقی سے متعلق وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکریٹری سید حسن شاہ نے ارکان تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیے۔
انہوں نے بتایا کہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے 38 ہزار پلانٹس لگائے گئے ہیں جبکہ مینگروز کی پلانٹیشن کی جارہی ہیں۔
حسن علی شاہ نے بتایا کہ سمندر میں حکومت سندھ کے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگے ہوئے ہیں۔ ماحول کی بہتری کے لیے پلاسٹک تھیلیوں کے استعمال پر پابندی لگائی تھی لیکن لوگ ہائی کورٹ میں چلے گئے ہیں۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔
کارروائی کے دوران سرکاری افسران کی کی عدم شرکت پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیف سیکریٹری سبدھ کو آج ہی خط لکھا جائے اور یہ پوچھا جائے کہ وقفہ سوالات میں متعلقہ محکمہ کاسیکریٹری کیوں نہیں ہوتا ، اویس قادر شاہ نے رولنگ دی کہ چیف سیکریٹری سے وضاحت طلب کریں۔
بعدازاں اجلاس منگل کی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایوان کی کارروائی کے کارروائی کے دوران توجہ دلاﺅ نوٹس انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے نے کہا کہ یہ سندھ اسمبلی بتایا کہ کیا گیا کے رکن کے لیے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو