کراچی:

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیر کو نیپا چورنگی کے قریب گٹر میں گر کر جاں بحق معصوم بچے ابراہیم کی موت پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا، قائد حزب اختلاف اس معاملے پر بولنا چاہتے تھے اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کرگئے.

سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت شروع ہوا۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر جاں بحق ہونے والے بچے ابراہیم کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

ایم کیو ایم کے رکن افتخار عالم نے اس واقعہ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کیا کراچی کے بچے اس طرح گٹروں میں گرتے رہیں گے؟ حکومت اس طرح کے واقعات کا تدارک کب کرے گی، کھلے ہوئے مین ہول موت کو دعوت دینے کے مترادف ہیں، معصوم بچے کی لاش گیارہ گھنٹے کے بعد ملی ہے۔

جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ اس ماں سے پوچھیں جس کا لعل گیا ہے، ہمارے کونسلر اور ٹاؤن چیئرمین وہاں پر موجود تھے، میئر کراچی اور ضلعی انتظامیہ کوئی جواب نہیں دے رہے تھی، بی آر ٹی ریڈ لائن پر یہ تیسرا واقعہ ہے، اس واقعے کی تحقیقات کی جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کراچی کے شہری کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

رکن اسمبلی ریحان بندوکڑا نے کہا کہ کراچی کا مئیر کون ہے، ٹاﺅن چیئرمین کون ہیں؟ سیاست چھوڑ دیں ہم سب ممبر ہیں جس فیملی کے ساتھ جو ہوا سب کو اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے متوفی بچے کے تصویر اپنے ہاتھ میں اٹھا رکھی تھی۔ ریحان بندوکڑا نے کہا کہ یہ مسکراتا چہرا دکھا رہا ہوں وہ دنیا سے چلا گیا۔ اس موقع پرکئی ارکان آبدیدہ ہوگئے ۔ خواتین ارکان حنا دستگیر اور ہیر سوہو اپنے آنسو پوچھتی نظر آئیں۔

ریحان بندوکڑا نے کہا کہ کسی کا نام نہیں لوں گا صرف یہ سوچیں کہ آپ کا بیٹا ہوتا تو کیا ہوتا، اسمبلی میں ہم سب مرد چوڑیاں پہن کر بیٹھے ہیں۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ایک انتہائی المناک واقعہ ہے جس پر ہر شخص غمزدہ ہے، متوفی بچے کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں، اسمبلی میں اس طرح کے مسائل پر ضرور بات ہونی چاہیے تاکہ دیگر لوگ محفوظ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بچہ کسی کا بھی ہوسکتا تھا، معصوم بچے کی تصویر دیکھ کر دکھ ہورہا تھا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ جیسے ہی واقعہ ہوا، ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں، ریسکیو کے عمل کی تمام تصویریں موجود ہیں۔ ان کی میئر کراچی سے بات ہوئی ہے، انہوں نے بتایا کہ اس سال 88 ہزار مین ہولز پر ڈھکن لگائے گئے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جس کسی کی کوتاہی کے سبب واقعہ پیش آیا اس کو سزا ملنی چاہیے، بطور وزیر اگر یہ میری ذمہ داری ہے اور میں نے کوتاہی کی تو مجھے بھی عہدہ چھوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ جس کسی بھی محکمہ کے کسی افسر کی کوتاہی ہوگی تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی اس معاملے پر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی نے ان سے کہا کہ وہ توجہ دلاﺅ نوٹس نمٹ جانے کے بعد انہیں بات کرنے کا موقع دیں گے۔ اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کے ارکان سخت برہم ہوگئے، وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر شور شرابہ کرنے لگے اور بعدازاں ایوان کی کارروائی سے واک آﺅٹ کرکے چلے گئے جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے کئی ارکان کے توجہ دلاﺅ نوٹس پر بات نہیں ہوسکی۔

ایوان کی کارروائی کے دوران بعض ارکان کے توجہ دلاﺅ نوٹس بھی زیر بحث آئے۔ ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے اپنے ایک توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ اپوزیشن ممبر کو اختیار نہیں ہے کہ حلقوں پر جا کر دیکھ سکیں کہ وہاں کس معیار کا ترقیاتی کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے نے جہانگیر روڈ کا 57 کروڑ کا کام کیا وہ روڈ آج ختم ہوگئے پھر پیسے مانگے جارہے ہیں۔ ان افسران کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ آپ ان افسران کے خلاف رولنگ دیں۔

ارلیمانی سکریٹری بلدیات سراج قاسم سومرو نے کہا کہ کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے کس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ کام معیاری نہیں ہوا۔ مذکورہ اسکیم میں ڈرینیج لائین بچھائی جارہی ہے جس اسکیم کا ذکر کیا گیا اس پر کام ابھی جاری ہے۔

رکن اسمبلی محمد اویس نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر کچرا جمع کرکے آگ لگائی جاتی ہے، مذکورہ سائٹ پر کچرا جمع کرنے کے بجائے باہر پھینکا جاتا ہے۔

پارلیمانی سکریٹری قاسم سومرو نے کہا کہ شاہراہ بھٹو کی سائیڈ پر جی ٹی ایس بن رہا ہے جس کا افتتاح دسمبر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگاتے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن سجاد علی نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ لیاری بہار کالونی میں پارک کی حالت خراب ہے، آدھا پارک خواتین کے لیے رکھا گیا ہے۔ علاقے میں ایک ہی پارک ہے جس میں مسائل ہیں، شاہ بھٹائی روڈ پر ایک پارک پر مذہبی جماعت کا قبضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک پارک میں گدھے باندھے جاتے ہیں وہاں پی پی کے مقامی رہنما نے کہا کہ پارک میرا ہے۔

سراج قاسم سومرو نے کہا کہ پارک میں پانی کی قلت ہے وہاں واٹر پمپ لگائے جارہے ہیں، پمپ لگنے کے بعد وہ پارک شروع ہوگا۔ کلری گرائونڈ میں فٹبال گراﺅنڈ 300 ملین روپے سے مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پارک بہت جلد مکمل ہو جائیں گے۔

ایوان کی کارروائی کے دوران شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کا ترمیمی بل پیش کیا گیا جو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔

ایوان کی کارروائی کے دوران محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اورساحلی ترقی سے متعلق وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکریٹری سید حسن شاہ نے ارکان تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیے۔

انہوں نے بتایا کہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے 38 ہزار پلانٹس لگائے گئے ہیں جبکہ مینگروز کی پلانٹیشن کی جارہی ہیں۔

حسن علی شاہ نے بتایا کہ سمندر میں حکومت سندھ کے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگے ہوئے ہیں۔ ماحول کی بہتری کے لیے پلاسٹک تھیلیوں کے استعمال پر پابندی لگائی تھی لیکن لوگ ہائی کورٹ میں چلے گئے ہیں۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔

کارروائی کے دوران سرکاری افسران کی کی عدم شرکت پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیف سیکریٹری سبدھ کو آج ہی خط لکھا جائے اور یہ پوچھا جائے کہ وقفہ سوالات میں متعلقہ محکمہ کاسیکریٹری کیوں نہیں ہوتا ، اویس قادر شاہ نے رولنگ دی کہ چیف سیکریٹری سے وضاحت طلب کریں۔

بعدازاں اجلاس منگل کی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایوان کی کارروائی کے کارروائی کے دوران توجہ دلاﺅ نوٹس انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے نے کہا کہ یہ سندھ اسمبلی بتایا کہ کیا گیا کے رکن کے لیے

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن