بچوں میں مثبت رویہ کیسے اجاگر کریں
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بچوں کی تربیت میں سب سے اہم ہےکہ والدین واضح اور مستقل اصول بنائیں۔ بچے اس وقت بہتر سیکھتے ہیں جب انہیں معلوم ہو کہ ان سے کیا توقع کی جا رہی ہے۔ اصولوں میں بار بار تبدیلی بچے کو اُلجھن میں ڈال سکتی ہے۔ اگر سونے کا وقت رات نو بجے ہے تو اسے بغیر کسی خاص وجہ کے تبدیل نہ کریں۔والدین کو چاہیے کہ خود عملی نمونہ بنیں۔ بچے وہی رویہ اپناتے ہیں جو وہ والدین میں دیکھتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ نرمی اور سچائی کا مظاہرہ کرے تو خود بھی یہی رویہ اختیار کریں۔اچھے کام کی تعریف بچوں کو وہی کام بار بار کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ جیسے اگر بچہ اپنے کھلونے خود سمیٹ لے تو اس کی تعریف کریں کہ ’تم نے بہت اچھا کام کیا۔‘ اس سے بچے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بچوں کو ان کے کیے ہوئے عمل کے نتیائج کا سامنا کرنے دیں تاکہ وہ سیکھ سکیں۔ مثلاً اگر وہ جیکٹ نہ پہنیں تو سردی لگنے پر انہیں اندازہ ہوگا کہ جیکٹ کیوں پہننا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر ہوم ورک نہ کریں تو کچھ دیر کے لیے ان کا تفریحی وقت کم کیا جاسکتا ہے۔چیخنا یا غصہ کرنا بچوں میں خوف پیدا کرتا ہے،فرمانبرداری نہیں۔ نرمی سے مضبوط انداز میں بات کرنا بہتر نتائج دیتا ہے اور بچہ جذبات پر قابو پانا سیکھتا ہے۔بچے ان اصولوں کو بہتر انداز میں اپناتے ہیں جن کی وجہ انہیں معلوم ہو۔ مثلاً اگر آپ کہیں کہ ’کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا اس لیے ضروری ہے تاکہ بیمار نہ ہوں،‘ تو وہ زیادہ آسانی سے بات مانیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’جب والدین محبت اور نظم و ضبط کا توازن رکھتے ہیں، تو بچے نہ صرف فرمانبردار بنتے ہیں بلکہ بہتر انسان بھی بنتے ہیں۔‘
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔