فیض حمید کی سزا کسی حکومت کی فتح نہیں: طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
طارق فضل چوہدری—فائل فوٹو
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثابت کیا فوج میں بھی کوئی افسر قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ فوج کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسی مثال نہیں ملتی، فیض حمید کو ان کی مرضی کی لیگل ٹیم فراہم کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ میرٹ پر فیصلہ قانون کی فتح اور آئین کی سر بلندی ہے، یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، 4 الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
تحریک انصاف کے ڈاکٹر نثار جٹ نے کہا کہ پہلے بھی مذاکرات میں ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ ہماری بانی تحریک انصاف تک رسائی کروا دیں مگر نہیں کروائی گئی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جب آپ ریاستی منصب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس کے نتائج ہوتے ہیں، وہ سمجھتے تھے کہ جو کچھ کر رہا ہوں اس کا حساب نہیں دینا پڑے گا، بانیٔ پی ٹی آئی اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ تھا، فیض حمید کی سزا کسی حکومت کی فتح نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی آج بھی ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے، منفی سیاست کی اب کوئی گنجائش نہیں، پی ٹی آئی کا منفی بیانیہ ایکسپوز کرنا ہماری ذمے داری ہے، بانیٔ پی ٹی آئی سے ان کی متعدد بار ملاقاتیں کروائی گئیں، وہ جیل کو ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے پارٹی سیکریٹریٹ ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اللّٰہ نے دنیا میں اس وقت پاکستان کو عزت دی، معرکۂ حق میں فتح دی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے حالیہ جنگ میں بڑی فتح حاصل کی، اس وقت دنیا میں پاکستان کو منفرد پزیرائی مل رہی ہے جو پہلے نہیں ملی۔
طارق فضل نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، دنیا میں کوئی ملک نہیں جس نے 40 لاکھ مہاجرین کی مہمان نوازی کی، ہم دہشت گردی کے ذمے دار افغان عوام کو نہیں افغان رجیم کو سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا کے وزیرِ اعلیٰ کا رویہ عدم تعاون کا ہے، آپریشن کا شوق کس کو ہے؟ ان آپریشنز میں فوج کا جانی نقصان ہوتا ہے، فوج کے جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانیاں دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری پی ٹی ا ئی نے کہا کہ فیض حمید
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔