اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بلاول بھٹو کی ٹوئٹ سے سامنے آنے والی باتیں انتہائی خوفناک ہیں، سلمان اکرم راجا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کی ٹوئٹ سے سامنے آنے والی باتیں انتہائی خوفناک ہیں۔

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میری ملاقات سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج خصوصی احکامات دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ہائیکورٹ کا آرڈر ایس ایچ او کو واٹس ایپ کیا ہے، آرڈر کی کاپی میرا ایسوسی ایٹ لے کر آرہا ہے۔ جسٹس ارباب صاحب نے ایڈووکیٹ جنرل کو میری ملاقات کے بارے حکم دیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم 27ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں، اس اسمبلی کے استحقاق کو رد کرتے ہیں۔ کوئی بھی آئینی ترمیم فارم 47 والی اسمبلی نہیں کرسکتی، بلاول بھٹو کی ٹوئٹ کے ذریعے جو باتیں سامنے آئی ہیں انتہائی خوفناک ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کیا جارہا ہے، آزاد عدلیہ کے تصور کو ختم کیا جارہا ہے۔ ہم تو اس ترمیم کی بہرحال مخالفت کریں گے، ہم سمجھتے ہیں تمام جماعتوں کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔

اس سے قبل بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پابندی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام کو آج ہی عمران خان سے سلمان اکرم راجا کی ملاقات کرانے کی ہدایت کی۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور نمائندہ اسٹیٹ کونسل فون کال پر جیل حکام کو آگاہ کریں۔

عدالت میں پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ان کی بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں، ہدایات لینے کے بعد ہی جواب دے سکتے ہیں، عدالت کے پچھلے آرڈر پر ملاقات نہیں کرنے دی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا نے انتہائی خوفناک پی ٹی ا ئی کی ٹوئٹ نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن