Islam Times:
2026-06-03@01:05:53 GMT

الہول کیمپ اور عراقی سلامتی

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

الہول کیمپ اور عراقی سلامتی

اسلام ٹائمز: المعموری نے عراقی سیاستدانوں کو خبردار کیا کہ شام کے الہول کیمپ میں 25 سال سے کم عمر کے سینکڑوں نوجوان موجود ہیں اور امریکی انٹیلیجنس کے آلہ کار اور اسکی اتحادی تنظیموں کے افراد اس کیمپ میں رہنے والے لوگوں میں منظم طریقے سے خطرناک دہشتگردانہ خیالات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اہلسنت دیالہ کے عالم نے تاکید کی: الہول کیمپ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے داعش کے شدت پسند نظریئے میں چوتھی نسل کی تعلیم ہے اور اس نظریئے کو فروغ دینے اور منظم کرنے میں امریکہ کا ہاتھ صاف ظاہر ہے۔ یاد رہے کہ اس کیمپ کا انتظام امریکی فوج سے وابستہ "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (SDF ملیشیا) کے نام سے مشہور مسلح گروپ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

عراق کے سیاسی امور کے ماہر "محمد الضاری" نے اتوار کی شام خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور الجولانی الہول کیمپ کے ذریعے عراق میں دہشت گردی پھیلانے کے منصوبہ پر کام کر رہا ہے۔ الضاری نے کہا کہ امریکہ، الھول کیمپ کے دہشت گردوں کے اہل خانہ کی عراق واپسی کی اجازت دینے کے لئے سرکاری حلقوں پر دبا‏ؤ ڈال رہا ہے اور یہ دراصل، عراق میں دہشت گردوں کی واپسی کے امریکی منصوبے کی علامت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ منصوبہ ایک ٹائم بم کی مانند ہے، جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے اور اس سے عراق کے داخلی حالات بے حد خراب ہوسکتے ہيں۔الضاری نے کہا: اس امریکی منصوبے کی جولانی حکومت اور اس سے وابستہ گروپوں نے حمایت کی ہے اور اس کا مقصد جلد از جلد داعشی دہشت گردوں کے اہل خانہ کو نینوا صوبے میں واقع الجدعہ کیمپ منتقل کرنا اور پھر انہیں ان کے اصل علاقوں میں بسا کر عراق میں دوبارہ دہشت گردی پھیلانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: مغربی عراق یعنی الانبار اور نینوا صوبے کے باشندوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر دہشت گردوں کے اہل خانہ کو پھر ان علاقوں میں بسایا گیا تو وہ اپنے شہید ہونے والے اعزہ کا بدلہ لیں گے۔ الضاری نے واضح کیا ہے کہ امریکہ، جولانی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کرکے شام کے الہول کیمپ سے داعشی دہشت گردوں  کے تقریباً 13 ہزار اہل خانہ کو عراق کے نینوا صوبے میں واقع الجدعہ کیمپ منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ الھول کیمپ میں دہشت گردوں کے اہل خانہ رہتے ہيں۔ الہول کیمپ، جس میں داعش دہشت گرد گروہ کے ارکان اور خاندانوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے، شام کے شمال مشرق میں اور عراق کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شمال مشرقی شام میں واقع الہول کیمپ جسے اکثر ''دنیا کا سب سے خطرناک کیمپ" کہا جاتا ہے، 53 ہزار سے زیادہ افراد کا مسکن ہے۔

اگرچہ اس کیمپ کے تمام رہائشی اسلامک اسٹیٹ کی حمایت نہیں کرتے ہیں، لیکن یہ آئی ایس گروپ کی طرف سے اُس وقت یہاں پہنچے تھے، جب اس سفاک انتہاء پسند گروپ کو اس کے عراق اور شام کے مضبوط گڑھوں میں شکست دی جا رہی تھی۔ الہول کے کیمپ میں مقیم زیادہ تر افراد کا تعلق عراق یا شام سے ہے۔ تاہم اس کیمپ میں قریب دس سے گیارہ ہزار افراد ایسے ہیں، جن کا تعلق امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک سے۔ الہول کیمپ کی آبادی کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ امدادی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق کیمپ کی آبادی کا 60 تا 64 فیصد بچوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر 12 سال سے کم عمر کے ہیں۔ عالمی برادری کی مداخلت کے بغیر اس کیس کو بند کرنا ممکن نہیں ہے اور یہ نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے اور پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جائے گا۔

الہول کیمپ کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے اور یہ کیمپ ایک ٹائم بم کی طرح ہے اور اس کا تعلق صرف عراق سے نہیں ہے۔ الہول کیمپ ایک امریکی منصوبہ ہے، جو برسوں پہلے عراق کی سرحدوں کے قریب شامی سرزمین میں امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے منصوبے کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد داعش سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کے خاندانوں کو اکٹھا کرنا اور آباد کرنا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے صوبہ دیالہ میں عراقی سنی علماء کی یونین کے سربراہ "جبار المعموری" نے المعلومہ نیوز سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ "الہول" کیمپ میں داعش کے پیادہ دہشت گرد فوجیوں کی نئی نسل کو فکری طور پر متحرک اور فوجی تربیت دے رہا ہے۔

جبار الماموری نے شام میں الہول کیمپ کو داعش کے دہشت گردوں کی چوتھی نسل کو منظم اور تربیت دینے میں واشنگٹن کا ایک خطرناک منصوبہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ میں نے شام میں الہول کیمپ کے خطرے کے بارے میں کئی بار خبردار کیا ہے کہ عراق کی سلامتی کے خلاف امریکی نگرانی میں دہشت گردانہ سوچ پیدا کر رہے ہیں۔ دیالہ کے سنی علماء کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ الہول کیمپ اسامہ بن لادن جیسے مشہور دہشت گردوں سے لے کر الزرقاوی اور البغدادی جیسے دہشت گردوں کی بنیاد پرست سوچ کی میراث کو فروغ دینے کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے۔ المعموری نے بتایا کہ الہول کیمپ میں داعش کے رہنماؤں کی 300 سے 400 سے زیادہ بیوائیں رہتی ہیں۔ وہ کمانڈر جو عراق، شام اور دیگر مقامات پر مارے گئے، لیکن اب ان کی بیوائیں بچوں اور بچیوں کی برین واشنگ اور انتہاء پسندانہ خیالات کو فروغ دے کر انہیں موت اور قتل کے کلچر سے متعارف کراتی ہیں۔

المعموری نے عراقی سیاستدانوں کو خبردار کیا کہ شام کے الہول کیمپ میں 25 سال سے کم عمر کے سینکڑوں نوجوان موجود ہیں اور امریکی انٹیلی جنس کے آلہ کار اور اس کی اتحادی تنظیموں کے افراد اس کیمپ میں رہنے والے لوگوں میں منظم طریقے سے خطرناک دہشت گردانہ خیالات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اہلسنت دیالہ کے عالم نے تاکید کی: الہول کیمپ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے داعش کے شدت پسند نظریئے میں چوتھی نسل کی تعلیم ہے اور اس نظریئے کو فروغ دینے اور منظم کرنے میں امریکہ کا ہاتھ صاف ظاہر ہے۔ یاد رہے کہ اس کیمپ کا انتظام امریکی فوج سے وابستہ "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (SDF ملیشیا) کے نام سے مشہور مسلح گروپ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے اہل خانہ تنظیموں کے خبردار کیا ہے اور اس داعش کے اس کیمپ کو فروغ کیمپ کے شام کے رہا ہے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان