71ء کی جنگ میں بحریہ دشمن کیلئے سیسہ پلائی دیوار تھی، آج بھی سرحدوں پر آہنی فصیل ہے: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ 1971ء میں پاک بحریہ دشمن کیلئے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔ پاک بحریہ کی جانب سے 9 دسمبر کو یادگار دن "ہنگور ڈے" کے طور پر منایا جا رہا ہے، ہنگور ڈے"آبدوز ہنگور"کی بہادری اور پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی روشن علامت ہے۔اس موقع پر اپنے بیان میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا پاکستان خود مختاری اور دفاعِ وطن کے لیے عزم محکم رکھتا ہے، 9 دسمبر71کو آبدوز ہنگورکے عملے نے جانبازی کی درخشندہ تاریخ رقم کی جو آج تک دشمن کے ذہن پر نقش ہے، یہ دن باور کرواتا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے۔ اپنے پیغام میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ پاک بحریہ شاندار ماضی کی طرح آج بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے کو ہمہ وقت تیارہے۔ 8 جدید ہنگور کلاس آبدوزیں جلد فلیٹ میں آ رہی ہیں۔ ہنگور ڈے پر پاک بحریہ کی جانب سے خصوصی دستاویزی فلم "ہدف" بھی جاری کی گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی و عالمی امن اور بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاک بحریہ ہنگور ڈے نے کہا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔