پنجاب اسمبلی میں فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف دی ڈیفنس فورسز تعیناتی پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
استحکام پاکستان پارٹی کے ایم پی اے محمد شعیب صدیقی نے پنجاب اسمبلی میں تہینیتی قرارداد جمع کرا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق قرارداد میں چیف آف دی ڈیفنس فورسز کی قیادت کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس عہدے پر تعیناتی سے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا وقار بڑھا ہے۔
شعیب صدیقی نے کہا کہ تعیناتی سے ملک کی عسکری تاریخ میں نیا اور سنہری باب رقم ہوا ہے۔ اس عہدے سے بھارت سمیت تمام دشمنوں کے اوسان خطا ہو چکے ہیں جبکہ یہ تعیناتی ملکی سرحدوں کو مزید محفوظ اور ناقابل تسخیر بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ تعیناتی دفاعی نظام کیلئے اہم سنگ میل ہے، قوم کو اس قیادت پر مکمل بھروسہ ہے۔ پاک فوج کی ملک میں معاشی استحکام اور سلامتی کیلئے کاوشوں پر پواریقین ہے۔ دفاعی مضبوطی اور داخلی امن کی بحالی ہی معاشی و معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔
مزید کہا گیا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں قومی سلامتی کے ادارے اورسول حکومت ایک ہیں۔ پنجاب اسمبلی کا ایوان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتا ہے۔ متن میں چیف آف ڈیفنس فورسز کی کامیاب مدتِ ملازمت کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان سی ڈی ایف کی قیادت میں بھرپور کامیابیوں کیلئے دعاگو ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی قیادت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔