جمہوریت وقانون کی حکمرانی کے لیے افراد نہیں اداروں کو مضبوط کیا جائے‘ کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ جمہوریت کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے بجائے اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ آئینی ترامیم میں جلدبازی نے ملک کی بنیادوں کو متزلزل کردیا ہے۔ مصنوعی قیادت اور ہائبرڈ نظام نہیں بلکہ حقیقی جمہوریت اور مخلص قیادت ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتی ہے۔ سندھی ثقافت امن، محبت اور رواداری کی نمائندہ ہے، اوطاق اور مہمان نوازی کے کلچر کو عام کرنے کی ضرورت ہے، جو شاہ بھٹائی کی سرزمین سندھ کی خوبصورتی اور پہچان ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں سندھ کی نظم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں لاہور میں منعقد ہونے والے اجتماع عام، تنظیمی معاملات سمیت سندھ کی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں این ایف سی ایوارڈ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ 18ویں ترمیم نے اس ایوارڈ کے اندر صوبوں کے حصے کو آئینی تحفظ دیا، جس سے وفاق کے صوابدیدی اختیارات محدود ہوئے؛ مگر افسوس کہ وفاق چاہتا ہے کہ اس تحفظ کو ختم کرکے صوبوں کا حصہ کم کیا جائے۔ 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوششیں نہ صرف آئین سے انحراف بلکہ صوبائی حقوق پر بھی براہ راست حملہ ہے۔صحت، سماجی تحفظ اور دیگر بنیادی معاملات میں صوبوں کو مکمل انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کے بجائے وفاقی سطح پر متبادل محکمے قائم کرنا آئین کی روح کی خلاف ورزی ہے۔ جماعت اسلامی سندھ کے حقوق پر کسی کو بھی سودے بازی کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔ 17 سال سے صوبے میں سیاہ وسفید کی مالک پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار کے عوض سندھ میں کارپوریٹ فارمنگ، کارونجھر کی کٹائی، دریائے سندھ کے پانی پر قبضہ، کوئلہ، گیس اور پیٹرول سمیت قدرتی وسائل کی لوٹ مار اور مقتدر قوتوں کے حوالے کرکے عوام کو بھوک، بے روزگاری اور بدحالی کا شکار بنایا ہے۔کرپٹ اور سندھ دشمن قوتوں سے نجات کے لیے اب سندھ کے عوام کو جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کا انتخاب کرکے اپنی آئندہ نسل کا مستقبل محفوظ بنانا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ کے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔