ایبٹ آباد: لیڈی ڈاکٹر کا اغوا کے بعد قتل، سنسنی خیز وجوہات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
لین دین کا تنازع: 4 روز قبل اغوا ہونے والی لیڈی ڈاکٹر کی تشدد زدہ لاش برآمد، سہیلی ملوث نکلی
خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں خاتون کی ایک تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی، جو پولیس کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کی ہے، جسے 4 روز قبل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے سامنے سے اغوا کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں میڈیکو لیگل آفیسر میرپورخاص سے گرفتار
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد ہارون رشید نے تصدیق کی ہے کہ لاش خاتون ڈاکٹر وردہ کی ہے، جن کی گمشدگی کی رپورٹ 4 دسمبر کو درج کرائی گئی تھی۔ پولیس نے 4 دن بعد ان کی لاش برآمد کی جو قتل کے بعد دفن کی گئی تھی۔
لاش کہاں سے ملی؟ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون رشید نے بتایا کہ 4 دسمبر کی شام ڈاکٹر وردہ کی گمشدگی کی رپورٹ ان کے والد کی جانب سے تھانہ کینٹ میں درج کرائی گئی تھی، جس میں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سے ڈیوٹی کے بعد گھر واپس نہیں آئی۔
اس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور ابتدائی تفتیش سے پتا چلا کہ ڈاکٹر وردہ کا اپنی سہیلی کے ساتھ لین دین کا تنازع تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2023 میں ڈاکٹر وردہ نے اپنی قریبی سہیلی کے پاس 67 تولہ سونا بطور امانت رکھا تھا، جس کی واپسی پر تنازع چلا آ رہا تھا۔
ہارون رشید کے مطابق 4 دسمبر 2025 کو مقتولہ کی سہیلی سونا واپس دینے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو ڈی ایچ کیو سے گاڑی میں بٹھا کر رحمان اسٹریٹ جدون پلازہ میں اپنے زیرِ تعمیر گھر لے گئی، جہاں پہلے سے مبینہ طور پر 3 اغواکار موجود تھے۔ ملزمہ نے ڈاکٹر وردہ کو ان کے حوالے کیا اور خود واپس چلی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، سی ڈی آر ریکارڈ اور تکنیکی معاونت کی بنیاد پر 35 سے زیادہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور بالآخر مقتولہ کی سہیلی تک پہنچ گئی۔ ملزمہ سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ملزمان نے انکشاف کیاکہ ڈاکٹر وردہ کو اغوا اور قتل کرکے لڑی بنوٹہ کے جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کیا گیا، جس کی نشاندہی پرویز نامی ملزم نے کی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شاہد کی نمازِ جنازہ پڑھانے والا بیٹا ہی ان کے قتل میں ملوث نکلا
انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، سونے کے لین دین سے متعلق اسٹامپ پیپر اور چیک قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق قتل کا مرکزی ملزم تاحال گرفتار نہیں ہو سکا، جس کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ واقعے کے خلاف ڈاکٹرز نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایبٹ آباد لیڈی ڈاکٹر قتل وجہ سامنے آگئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایبٹ ا باد لیڈی ڈاکٹر قتل ڈاکٹر وردہ لیڈی ڈاکٹر بتایا کہ انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز