پنجاب حکومت کا تعلیمی بورڈز ترمیمی آرڈیننس پیش
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
حسن علی: پنجاب حکومت کی جانب سے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی آرڈیننس صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ ترمیم کا مقصد امتحانی نظام میں شفافیت، کارکردگی میں بہتری اور تعلیمی بورڈز کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا ہے۔
قانونی تقاضےپورےکرنےکیلئےترمیمی آرڈیننس اسمبلی سےمنظورکرایاجائیگا،حکومت کاپنجاب بورڈزآف انٹرمیڈیٹ اینڈسیکنڈری ایجوکیشن میں اختیارات کی تبدیلیوں کافیصلہ کر لیاگیا۔
لیسکو کی جانب سے سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت مقرر
جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق وزیر اعلیٰ اور حکومت کی جگہ بورڈزکاسربراہ وکنٹرولنگ اتھارٹی قرار دے دیا،تعلیمی بورڈزکےخالی عہدےپرائیویٹ شعبےسےبھی پُرکیےجاسکیں گے،آرڈیننس کےتحت پرائیویٹ شعبہ بھی اہل قرار ہوں گے،کنٹرولنگ اتھارٹی کی منظوری سےتعلیمی بورڈزمیں تقرری ممکن ہوگی۔
ایکٹ1976کی شق12میں ترمیم کرکےدیگربورڈزکےبعد پرائیویٹ سیکٹرکاذکرشامل ہو گا،سیکرٹری ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کنٹرولنگ اتھارٹی میں شامل ہو گیااور سربراہ وزیراعلیٰ ہونگی،سیکشن13میں ترمیم ،کنٹرولنگ اتھارٹی کی جگہ سیکرٹری ٹوگورنمنٹ، ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ شامل ہو گا،سیکشن14 میں ترمیم، بورڈزکےتمام افسران کنٹرولنگ اتھارٹی کی منظوری سےتعینات ہونگے۔
امتحانات سے قبل ہی لاہور بورڈ کی نااہلی سامنے آگئی
جاری کردی آرڈیننس کے مطابق سیکشن20 میں ترمیم، بورڈکےملازمین کی کارکردگی ونظم وضبط کےنئےاصول شامل ہو نگے،ترمیمی آرڈیننس کے تحت خالی آسامیوں پر فوری تقرری کی جائے گی،آرڈیننس کا مقصد تعلیمی بورڈز کے کام کو مؤثر، تیز اور شفاف بنانا ہے،بورڈزمیں کئی کلیدی عہدے خالی ہونے سے امور متاثر ہورہے تھے۔
آرڈیننس کے تحت اب پرائیویٹ شعبےسےتقرری کےذریعےخالی آسامیوں کو پُر کیا جائیگا،آرڈیننس کا پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز پر لاگو ہوچکا ہے،گورنر سردار سلیم حیدر نے 1976کےایکٹ میں ترامیم کی منظوری14اکتوبرکودےچکےہیں۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردار کر دیا
آرڈیننس 2 ماہ کے لئے متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کر دیئے گئے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 6لاکھ 32ہزار کاشتکاروں نے 2ارب 54کروڑ روپے کے قرض استعمال کرلئے،گندم کے سیزن میں کاشتکاروں نے 100ارب کی زرعی مداخل خریدیں،کسان کارڈ کے ذریعے خریف کی فصل کیلئے 90ارب روپے دیئے گئے،کاشتکاروں نے 57ارب روپے کی اقساط ادا کردیں،3لاکھ کاشتکاروں نے 30ارب کے زرعی مداخل کسان کارڈ کے ذریعے حاصل کئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہناتھا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکار کی قسمت بدل رہی ہے،پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں،پنجاب کے کاشتکار کو خودمختار اورخوشحال دیکھنا میرا خواب ہے،کاشتکاروں نے قرض کی بروقت ادائیگی سے مثال قائم کی ہے۔
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
مزید :