پی ایس ایل کی ایچ بی ایل کیساتھ ٹائٹل اسپانسر کے معاہدے کی تجدید
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)کے ساتھ بطور ٹائٹل اسپانسر معاہدے کی تجدید کرلی۔
نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر اور حبیب بینک کے چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسرز علی حبیب نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
معاہدے پر دستخط کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علی حبیب نے بتایا کہ پی ایس ایل کی ویلیو میں 505 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دس سالہ معاہدے میں تجدید کا فیصلہ سوچ و بچار کے بعد کیا ہے۔
علی حبیب نے کہا کہ پی ایس ایل ایک برانڈ بن گیا ہے، اس لیگ کی وجہ سے نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس پاکستان لانے میں مدد ملی بلکہ نئے ٹیلنٹ کو بھی مواقع ملے۔
پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کی نئی ویلیو ایشن کی حتمی رپورٹ اسی ہفتے سامنے آجائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کے نہ ہونے سے لیگ رکے گی نہیں، ٹائٹل اسپانسر کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔
سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ پشاور میں بھی میچز کرانے کا ارادہ ہے۔ ممکنہ طور پر نئی آنے والی دو ٹیموں کے شہروں میں بھی میچز کروائے جائیں گے۔
دبئی میں ہونے والی لیگ کے منتظمین کی جانب سے دنیا کی دوسری بڑی لیگ کا دعویٰ کیے جانے سے متعلق سوال پر سلمان نصیر نے کہا کہ حال ہی میں بی بی سی اسپورٹس نے پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری بہترین لیگ قرار دیا ہے۔
کراچی میں پی ایس ایل میچز کے دوران شائقین کو میدان میں لانے سے متعلق سوال پر علی حبیب کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پی سی بی کی سربراہی میں مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔
سلمان نصیر نے کہا کہ ہمیں شائقین کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی تاکہ وہ باآسانی میدان میں آسکیں۔
پی ایس ایل 11 کے ممکنہ طور پر اپریل مئی میں آئی پی ایل کے ساتھ شیڈول اور دونوں لیگز کی رائیولری سے متعلق سوال پر سلمان نصیر نے کہا کہ اس وقت تو دونوں لیگز میں کوئی رائیولری نظر نہیں آرہی کیونکہ آئی پی ایل کی ویلیو نیچے آرہی ہے اور پی ایس ایل کی ویلیو اوپر جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کی علی حبیب ایل کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔