حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)کے ساتھ بطور ٹائٹل اسپانسر معاہدے کی تجدید کرلی۔

نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر اور حبیب بینک کے چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسرز علی حبیب نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

معاہدے پر دستخط کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علی حبیب نے بتایا کہ پی ایس ایل کی ویلیو میں 505 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دس سالہ معاہدے میں تجدید کا فیصلہ سوچ و بچار کے بعد کیا ہے۔

علی حبیب نے کہا کہ پی ایس ایل ایک برانڈ بن گیا ہے، اس لیگ کی وجہ سے نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس پاکستان لانے میں مدد ملی بلکہ نئے ٹیلنٹ کو بھی مواقع ملے۔

پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کی نئی ویلیو ایشن کی حتمی رپورٹ اسی ہفتے سامنے آجائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی کے نہ ہونے سے لیگ رکے گی نہیں، ٹائٹل اسپانسر کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔

سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ پشاور میں بھی میچز کرانے کا ارادہ ہے۔ ممکنہ طور پر نئی آنے والی دو ٹیموں کے شہروں میں بھی میچز کروائے جائیں گے۔

دبئی میں ہونے والی لیگ کے منتظمین کی جانب سے دنیا کی دوسری بڑی لیگ کا دعویٰ کیے جانے سے متعلق سوال پر سلمان نصیر نے کہا کہ حال ہی میں بی بی سی اسپورٹس نے پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری بہترین لیگ قرار دیا ہے۔

کراچی میں پی ایس ایل میچز کے دوران شائقین کو میدان میں لانے سے متعلق سوال پر علی حبیب کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پی سی بی کی سربراہی میں مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔

سلمان نصیر نے کہا کہ ہمیں شائقین کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی تاکہ وہ باآسانی میدان میں آسکیں۔

پی ایس ایل 11 کے ممکنہ طور پر اپریل مئی میں آئی پی ایل کے ساتھ شیڈول اور دونوں لیگز کی رائیولری سے متعلق سوال پر سلمان نصیر نے کہا کہ اس وقت تو دونوں لیگز میں کوئی رائیولری نظر نہیں آرہی کیونکہ آئی پی ایل کی ویلیو نیچے آرہی ہے اور پی ایس ایل کی ویلیو اوپر جارہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کی علی حبیب ایل کے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل