انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی مجموعی کمرشل ویلیو میں سال 2025 کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مختلف عالمی اور علاقائی عوامل، سیکیورٹی خدشات اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث لیگ کی مالی قدر اور فرنچائز برانڈ ویلیوز دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جنوبی افریقہ کے اسٹار کھلاڑی نے آئی پی ایل کے بجائے پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ کرلیا

رپورٹس کے مطابق 2025 میں آئی پی ایل کی مجموعی کمرشل ویلیو 20 فیصد کمی کے بعد 9.

6 ارب ڈالر رہ گئی، جو 2024 میں 12 ارب ڈالر تھی۔ برانڈ فنانس کے مطابق اس کمی کی بڑی وجوہات خطے میں جیو سیاسی کشیدگی اور آئندہ بڑی نیلامی سے متعلق بے یقینی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تنازع کے دوران سیکیورٹی خدشات کے باعث میچز، جن میں ناک آؤٹ مرحلہ بھی شامل تھا، تقریباً ایک ہفتے کے لیے معطل رہے، جس سے لیگ کی رفتار اور مارکیٹ اعتماد متاثر ہوا۔

دی اکنامک ٹائمز اور بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق تقریباً 16 میچز عارضی طور پر روک دیے گئے، جس سے نشریاتی اعتماد، اشتہاری نمائش اور مجموعی کمرشل مومینٹم کو دھچکا لگا۔

رپورٹس میں آن لائن حقیقی رقم والے گیمنگ اشتہارات پر پابندی کو بھی ایک بڑا دباؤ قرار دیا گیا، کیونکہ اس فیصلے سے ایک نمایاں اشتہاری کیٹیگری مارکیٹ سے باہر ہو گئی۔ اس کے علاوہ پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کے ساتھ شیڈولنگ تصادم، بڑی نیلامی کی غیر یقینی صورتحال اور کرپٹو کرنسی سے جڑے اشتہاری و مالی شراکت داروں کے انخلا نے بھی عدم استحکام میں اضافہ کیا۔

ڈی اینڈ پی ایڈوائزری کی اکتوبر رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل کی ویلیو میں لگاتار 2 سال سے کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں 2023 میں یہ 92,500 کروڑ روپے، 2024 میں 82,700 کروڑ روپے اور 2025 میں 76,100 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:’بھارتی ہاتھ سے انکار نہیں‘، سری لنکن ٹیم کے واپس جانے کے عندیہ کے پیچھے آئی پی ایل کا کیا کردار ہے؟

رپورٹ میں میڈیا انڈسٹری میں یکجائی اور حقیقی رقم والے گیمنگ اسپانسرشپ پر حکومتی پابندی کو ساختی تبدیلیاں قرار دیا گیا ہے۔

فرنچائز سطح پر بھی 10 میں سے 9 ٹیموں کی برانڈ ویلیو میں کمی رپورٹ ہوئی۔ ممبئی انڈینز 108 ملین ڈالر کے ساتھ بدستور سب سے قیمتی ٹیم رہی، تاہم اس کی ویلیو میں بھی تقریباً 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔

رائل چیلنجرز بنگلورو 105 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی لیکن اس کی ویلیو میں بھی تقریباً 10 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔ چنئی سپر کنگز کی برانڈ ویلیو 24 فیصد کمی کے بعد 93 ملین ڈالر، کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی 33 فیصد کمی کے بعد 73 ملین ڈالر رہی، جبکہ سن رائزرز حیدرآباد اور راجستھان رائلز میں بالترتیب 34 اور 35 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

گجرات ٹائٹنز واحد ٹیم رہی جس کی برانڈ ویلیو میں 2 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 70 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

برانڈ فنانس کے مطابق چنئی سپر کنگز برانڈ اسٹرینتھ کے لحاظ سے سب سے مضبوط ٹیم رہی، جبکہ مجموعی طور پر ممبئی انڈینز سب سے قیمتی برانڈ قرار پائی۔ تمام تر کمی کے باوجود 2025 میں آئی پی ایل کے آن لائن ناظرین کا ریکارڈ بھی قائم ہوا، جہاں مجموعی طور پر 384.6 ارب منٹ دیکھنے کا وقت رپورٹ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق مجموعی تصویر یہ ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی کشیدگی سے متاثرہ تعطل اور نیلامی سے جڑی بے یقینی نے قلیل مدت میں ویلیوایشن پر دباؤ ڈالا، جبکہ ساختی عوامل نے آئی پی ایل کی طویل مدتی کمرشل رفتار کو بھی متاثر کیا ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی پی ایل آئی پی ایل ویلیو بھارت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل ا ئی پی ایل ویلیو بھارت آئی پی ایل کی برانڈ ویلیو ا ئی پی ایل ملین ڈالر ویلیو میں کے مطابق فیصد کمی کمی کے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار