خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کا فیصلہ دانشمندانہ نہیں ہوگا(فضل الرحمان)
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ملکی سیاسی صورتحال انتشار کی طرف بڑھ رہی ہے، پرامن احتجاج پر تشدد افسوسناک قرار
گزشتہ رات خواتین پر تشدد نے مرحومہ کلثوم نواز پر تشدد کی یاد تازہ کردی، میڈیا سے گفتگو
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مجموعی سیاسی صورتحال انتشار اور تشدد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پرامن آئینی احتجاج پر تشدد افسوسناک ہے، جیل میں قید کسی بھی شخص سے ملاقات اس کے ورثاء کا آئینی حق ہے، پارلیمنٹیرین اور اپوزیشن رہنماؤں پر تشدد آمریت کی علامت ہے، جمہوری روایات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے،خواتین کا احترام مشرقی واسلامی روایات کا حصہ ہے، گزشتہ رات خواتین پر تشدد نے مرحومہ کلثوم نواز پر تشدد کی یاد تازہ کر دی، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال انتشار اور تشدد کی طرف بڑھ رہی ہے، ملکی معیشت اور حالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اسی طرح جمعیت علمائیاسلام ف کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت میں یکسوئی نہیں ہے تاہم ہمارے ہم خیال دینی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے ہیں، پارلیمنٹ کے باہر دینی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک لانے پر غور کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں مکمل مشاورت کے بعد حکومت مخالف تحریک کا اعلان کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کی باتیں زیر گردش ہیں، تاہم یہ دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا، آئین اور قانون میں ترامیم قومی اورملکی مفاد میں کی جاتی ہیں، صرف شخصی مفادات کیلئے ترامیم قوم کے لیے قابل قبول نہیں جب کہ مدارس کی رجسٹریشن کے مسائل بدستور حل طلب ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پرعمل نہیں ہو رہا، سود کے خاتمے پر قانون سازی ضرور ہوئی مگر عملی طور پر سود ختم نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: تشدد کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔