صدر جوبائیڈن کی امریکی عوام سے اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سابق امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکا ایک ایسے نظام پر قائم ہے جس میں محدود اختیارات والی صدارت، مؤثر کانگریس، اور خودمختار عدلیہ موجود ہے، لیکن ٹرمپ نے بجٹ بحران کو بہانہ بنا کر حکومت کو دوسری طویل بندش کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق ڈیموکریٹک صدر جوبائیڈن نے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر آزادیِ اظہار پر حملہ کرنے اور انتظامی اختیارات کی حدود کو چیلنج کرنے کا الزام لگایا۔ یہ ان کی پہلی عوامی تقریر تھی جو انہوں نے پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے شعاعی (ریڈی ایشن) تھراپی مکمل کرنے کے بعد کی۔ بائیڈن نے کہا کہ امریکا اپنی بنیاد سے ہی دنیا کی سب سے طاقتور نظریۂ حکمرانی کے لیے ایک مشعلِ راہ رہا ہے، یہ نظریہ ہر فوج سے زیادہ طاقتور ہے، اور ہم ہر آمر سے زیادہ مضبوط ہیں۔
82 سالہ بائیڈن کو ایڈورڈ ایم کینی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے ایک عمر کی خدمات کے اعتراف پر دیا گیا ایوارڈ وصول کرنے کی تقریب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایک ایسے نظام پر قائم ہے جس میں محدود اختیارات والی صدارت، مؤثر کانگریس، اور خودمختار عدلیہ موجود ہے، لیکن ٹرمپ نے بجٹ بحران کو بہانہ بنا کر حکومت کو دوسری طویل بندش کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جو دراصل اقتدار پر نئی قسم کی گرفت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
سابق صدر نے کہا کہ میں اس صورتحال میں کوئی روشنی نہیں دیکھتا، ہم اندھیروں کے دنوں سے گزر رہے ہیں، لیکن میرا یقین ہے کہ ہمارا ملک دوبارہ اپنی سمت پائے گا، اور ہمیشہ کی طرح، اگر ہم اپنے ایمان پر قائم رہیں تو پہلے سے زیادہ طاقتور، دانا، اور ثابت قدم ہو کر ابھرے گا۔ بائیڈن نے ان افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے موجودہ حکومت کے دباؤ کے باوجود آزادیِ اظہار کے حق پر قائم رہ کر استعفیٰ دیا، یا وہ فنکار اور جامعات جو ٹرمپ کے حملوں کے باوجود اپنی آزادی پر ڈٹے رہے۔
انہوں نے کہا کہ کامیڈی فنکار اور پروگرام ساز، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی نوکریاں خطرے میں ہیں، پھر بھی آزادیِ اظہار پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ بائیڈن نے ان ریپبلکن رہنماؤں کی بھی تعریف کی جنہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف موقف اختیار کیا یا ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کوئی خیالی داستان نہیں، یہ ملک 250 برس سے وجودی جدوجہد اور امکانات و خطرات کی کشمکش میں رہا ہے۔ انہوں نے آخر میں عوام سے پرجوش اپیل کی کہ امریکا کے لوگو، اٹھ کھڑے ہو جاؤ۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بائیڈن نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز