ٹرمپ پیوٹن ملاقات منسوخ : یوکرین جنگ ختم کرنے پر “بےکار” مذاکرات کا بہانہ، روس کی مطالبات میں لچک نہ ہونے پر فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ یوکرین جنگ ختم کرنے پر ہونے والی مجوزہ ملاقات کو منسوخ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اسے بےکار ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس سے فوری ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ فیصلہ پیوٹن اور ٹرمپ کی حالیہ فون کال اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی گفتگو کے بعد سامنے آیا، جہاں روس نے اپنے سخت مطالبات پر اصرار کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق روسی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ٹرمپ نے پچھلے ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ پیوٹن سے ہنگری کے شہر بوداپسٹ میں دو ہفتوں میں ملاقات کریں گے، تاہم روس نے یوکرین سے بڑے علاقائی مطالبات (جیسے ڈونباس کے علاقوں سے انخلا) پر اصرار کیا، جسے کیف نے مسترد کر دیا۔
ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “میں ایسی کوئی ‘بےکار ملاقات’ نہیں چاہتا جہاں کوئی پیش رفت نہ ہو۔روسی وزیر خارجہ لاوروف نے بھی فون کال میں روس کی پوزیشن کی تصدیق کی، جہاں انہوں نے یوکرین کو “نازیوں” سے بھرا ہوا قرار دیا اور فوری جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔