شہباز شریف سے خیبر پختونخوا کے ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پی ایم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کی وزیرِاعظم سے ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت نے وفاقی دارالحکومت میں ملاقات کی۔ پی ایم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ ذرائع نے مزید بتایا ملاقات میں وفاقی وزراء انجینئر امیر مقام، سردار محمد یوسف، عطاء اللہ تارڑ، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِاعظم رانا ثناء اللہ، ارکان پارلیمنٹ پیر صابر شاہ، کیپٹن صفدر، مرتضیٰ جاوید عباسی اور سردار مشتاق موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ارکان پارلیمنٹ خیبر پختونخوا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔