وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت صنعت اور زراعت کے شعبے کے لیۓ پاور ڈویژن کی اصلاحاتی پیکج پر جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت صنعت اور زراعت کے شعبے کے لیۓ پاور ڈویژن کی اصلاحاتی پیکج پر جائزہ اجلاس ملکی صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لیے پاور ڈویژن جامع اور موثر پالیسی سفارشات تشکیل دے۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت صنعتی پیداوار سے متعلقہ تمام ادارے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کو سہولت پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں۔ وزیراعظم کی ہدایت زراعت اور صنعت کے شعبے کو ہر ممکن سہولت بہم پہنچانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم ملک میں بجلی کی پیداوار کی زیادہ سے زیادہ مثبت استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی پر کام کیا جائے۔ وزیراعظم کی ہدایت بجلی کی پیداوار کا بہترین استعمال صنعتی مصنوعات اور زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم وزیراعظم کو پاور ڈویژن کی طرف سے ملک میں بجلی کی پیداوار اور اس کے جامع اور موثر استعمال پر ممکنہ اصلاحاتی پیکج پر بریفنگ دی گئی۔ اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت پاور ڈویژن کی طرف سے ملک میں بجلی کی پیداوار اور پاور ڈویژن کے اصلاحاتی ایجنڈا پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزارت توانائی کو بجلی کی پیداوار کے موثر استعمال سے صنعتی پیداوار اور زرعی مصنوعات میں اضافے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایات جاری کی۔ وزیراعظم نے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت کے لیے بھی پاور ڈویژن کو مختلف سفارشات مرتب کرنے کی ہدایات دیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کو پاور ڈویژن کی طرف سے پالیسی سفارشات پر جاری کام اور دیگر اصلاحاتی ایجنڈے پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس خان لغاری، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، مشیر براۓ صنعت ہارون اختر، اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بجلی کی پیداوار پاور ڈویژن کی وزیراعظم کی کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔