ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر کو غیر قانونی منشیات اسمگلنگ کا رہنماء قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کولمبیا میں بڑے پیمانے پر منشیات کی پیداوار کا مقصد امریکا میں فروخت کرنا ہے، جو کہ امریکیوں کی اموات اور تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو غیر قانونی منشیات اسمگلنگ کا رہنماء قرار دے دیا۔ صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ منشیات کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی منشیات کولمبیا میں اب تک کا سب سے بڑا کاروبار بن چکا ہے اور صدر پیٹرو اس کی روک تھام کے لیے کچھ نہیں کرسکے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کولمبیا میں بڑے پیمانے پر منشیات کی پیداوار کا مقصد امریکا میں فروخت کرنا ہے، جو کہ امریکیوں کی اموات اور تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ کولمبیا غیر قانونی منشیات کی پیدوار فوری بند کر دے ورنہ امریکا خود یہ کروا دے گا اور ایسا اچھے طریقے سے نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر قانونی منشیات منشیات کی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔