وزیر مملکت برائے داخلہ، طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت جن چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان کے پیش نظر ہمیں ایسی قیادت اور سوچ کی ضرورت ہے جو بالغ نظری اور قومی مفاد کو ترجیح دے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی موجودہ قیادت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے طرز سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک مزید غیر سنجیدہ اور جذباتی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دی جانے والی بلٹ پروف گاڑیوں کو ناقص قرار دے کر واپس کر دیا، حالانکہ یہی گاڑیاں دیگر وزرا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بلٹ پروف گاڑی کی قیمت تقریباً 10 کروڑ روپے ہے اور یہ گاڑیاں وفاقی حکومت نے قومی وسائل سے فراہم کی تھیں، لیکن صوبائی حکومت نے انہیں سیاسی مسئلہ بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کو گاڑیوں کا ماڈل پسند نہیں تھا تو وہ اپنی ذاتی گاڑی پیش کر دیتے۔ اس رویے سے نہ صرف پولیس کی صلاحیت متاثر ہوئی بلکہ ان کی حفاظت کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا، جبکہ خود وزیراعلیٰ بلٹ پروف گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔
افغانستان سے بات چیت کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کی تجاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے طلال چوہدری نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاملات پر بات کرنا وفاق کا اختیار ہے، اور ایسی حساس باتوں پر صوبائی حکومت کو یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو سنجیدگی سے چلانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات مل سکیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے صحت کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ہمارے اسلام آباد کے اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا سے ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، وہ اسے عوام کی خدمت میں استعمال کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا انہوں نے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن