محکمہ سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا میں لاکھوں کی کرپشن سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
انکوائری رپورٹ میں کئی سالوں سے کینٹین اور فوٹو اسٹیٹ کی مد میں خصوصی طلباء سے ہزاروں روپے وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امتحان ڈیوٹی لگانے کے لئے ڈیپارٹمنٹ کے لوئر اسٹاف کو ہائی اسکیل ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا میں اندھیر نگری چوپٹ راج، اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس حیات آباد پشاور میں لاکھوں روپے کی کرپشن سامنے آگئی۔ محکمہ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا کی ہدایت پر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے انکوائری مکمل کرلی جس کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ انکوائری رپورٹ میں کئی سالوں سے کینٹین اور فوٹو اسٹیٹ کی مد میں خصوصی طلباء سے ہزاروں روپے وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امتحان ڈیوٹی لگانے کے لئے ڈیپارٹمنٹ کے لوئر اسٹاف کو ہائی اسکیل ظاہر کیا جاتا ہے۔
انکوائری رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ نگراں صوبائی وزیر کے عطیات کو ضائع کرنے پر سخت کارروائی کی جائے، انکوائری کمیٹی نے محکمہ سوشل ویلفیئر کا جامع انٹرنل آڈٹ کرانے کی بھی تجویز دی ہے۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ پروجیکٹ ملازمین کی تنخواہیں بذریعہ چیکس ادائیگی ممکن بنائی جائیں، خصوصی طلباء کے لیے نقد عطیات رقوم کا ریکارڈ بمعہ رسید مرتب کیا جائے۔ کمپلیکس میں ہزاروں روپے مالیت کے اسکریپ کا ریکارڈ مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انکوائری رپورٹ میں سوشل ویلفیئر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔