حکومت کا زرعی اور صنعتی صارفین کیلیے طویل مدتی ریلیف؛ بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت کی جانب سے زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے طویل مدتی پیکیج تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے طویل مدتی ریلیف پیکیج کی تیاری کررہی ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں 3 سال کے لیے 14 روپے فی یونٹ تک کی کمی کا امکان ہے۔
زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 23 روپے 50 پیسے فی یونٹ تک مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے 3 سالہ ریلیف پیکیج تیار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اضافی بجلی استعمال کرنے پر زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 22 روپے تا 23 روپے 50 پیسے فی یونٹ تک مقرر ہوں گے جب کہ اس وقت زرعی صارفین 38 روپے اور صنعتی صارفین 34 روپے فی یونٹ قیمت ادا کر رہے ہیں ۔
پاور ڈویژن ریلیف پیکیج منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف آئندہ چند روز میں اس پیکیج کا اعلان کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔