خیبر پختونخوا پولیس کو دی گئی بلٹ پروف گاڑیوں کے معاملے کی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ ایک اہم اجلاس میں کیا گیا تھا، جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی تھی۔
اس اجلاس میں پولیس اور ایف سی (فرنٹیئر کانسٹیبلری) کے حکام نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ خیبر پختونخوا، خصوصاً جنوبی اضلاع میں تعینات افسران کو دہشت گردی کے شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا ان کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں ناگزیر ہیں۔ اس پر محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے اداروں کو تحفظ دیا جائے گا اور انہیں درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی نے جنوبی اضلاع کے لیے 10 بلٹ پروف گاڑیوں کی درخواست کی تھی۔ ابتدائی طور پر خیبر پختونخوا پولیس کو 3 اور ایف سی کو 2 گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ آپریشنل علاقوں میں تعینات افسران و اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
تاہم، معاملہ اس وقت تنازع کا شکار ہوا جب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ان بلٹ پروف گاڑیوں کوناکارہ قرار دے دیا۔ انہوں نے نہ صرف ان گاڑیوں کو کے پی پولیس کی تضحیک قرار دیا بلکہ فوری طور پر انہیں وفاق کو واپس کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
اس تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت یہ گاڑیاں واپس کر رہی ہے، تو بلوچستان حکومت ان کے حصول کی خواہشمند ہے، کیونکہ ہم بھی دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہیں۔
اس پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا:ٹھیک ہے، اگر کے پی حکومت کو گاڑیاں نہیں چاہئیں تو یہ بلوچستان حکومت کو دے دی جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا وزیر داخلہ بلٹ پروف

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی