ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹوکی مفتی منیب الرحمن سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ملی یکجہتی کونسل صوبہ سندھ کے وفد نے صوبائی صدر اسد اللہ بھٹو اور صوبائی جنرل سیکٹری علامہ قاضی احمد نورانی کے ہمراہ سانحہ مرید کے اور وطن عزیز کو درپیش داخلی اور خارجی حالات کے تنازعہ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن سے ملاقات کی اس موقع پر جمعیت علماء پاکستان یوتھ ونگ کے صدر راؤ عبدالرحمٰن ، سابق ایم این اے محمد حسین محنتی اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ باہمی مشاورت اورغوروخوص کے بعد پریس بریفنگ دیتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے کہا کے ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار اور علماء دانشمندانہ فیصلے کریں، روئیوں میں اعتدال اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے تمام طبقات کے ساتھ مساویانہ سلوک کرے۔ سانحہ مریدکے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ معاملات کے حل کے لئے قومی مشاورت کی ضرور ت ہے۔ پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال کسی بھی احتجاج کی متحمل نہیں۔ افغانستان کی حکومت اپنے روئیوںپر غور کرے اور اپنے محسنوں کو مخالف نہ بنائے۔ سانحہ مرید کے کے ز خمیوں کا علاج معالجہ اور شہدا کی تدفین باوقار طریقے سے کی جائے۔ حکومت اپنا قانونی حق استعمال کریلیکن جبر سے گریز کرے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی نگرانی میں اعلی عدالتی کمیشن قائم کرے اور حقائق سامنے لائے جائیں تا کہ افواہوں کو پھلنے کا موقع نہ ملے۔ پنجاب کے مدارس ، مساجد اورعلماء کو مکمل تحفظ مراہم کیا جائے تاکہ ریاست پر علماء کا مزید اعتماد بڑھے اور اس موقع پر علامہ قاضی احمد نورانی نے کہا کے عنقریب ملک بھر کی دینی وسیاسی جماعتوں کے قائدین، علماء مشائخ، مدارس کے محتمیم اور درگاہوں کے سجاداہ نشینوں کی قومی مشاورت بلاکر وطن عزیز کے استحکام اور دینی اقدار کے تحفظ کے لئے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔